موجودہ حکومت بھی سابقہ حکومتوں کا ایک تسلسل ہے، ڈاکٹر عاصم سجاد اختر

0

پڑی درویزہ: موجودہ حکومت بھی سابقہ حکومتوں کاہی ایک تسلسل ہے ۔ مداری کی طرح عوام کے بنیادی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوششیں جاری ہیں ۔ڈاکٹر عاصم سجاد اختر۔اکیسویں صدی میں اشتراکی انقلاب کے لئے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی ، سوشل میڈیا اور تحریک حقوق نسواں کی جدو جہد کے عنوان پر فہد دیس مکھ اور عالیہ امیر علی کی طرف سے عوامی ورکرز پارٹی کے کارکنان کو تربیتی لیکیچرز۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان عوامی ورکرز پارٹی پنجاب کے صدر ڈاکٹر عاصم سجاد اختر نے اسلام آباد میں عوامی ورکرزپارٹی کے زیر اہتمام ڈیجیٹل میڈیا، سوشلسٹ تحریک حقوق نسواں اور معیشت کے عنوان پرمنعقدہ تربیتی لیکچرز کی نشست سے صدارتی لیکچرپیش کرتے ہوئے کہاہے کہ موجودہ حکومت بھی سابقہ دائیں بازو کی حکومتوں کا ایک تسلسل ہے جس کے ایجنڈا پر معاشی نظام کی کوئی تبدیلی نہیں ہے ۔

انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان سے اب تک حکمران طبقات کا یہ کھیل جاری ہے کہ ہردور میں عوام کے بنیادی مسائل ،مثلاًبے روزگاری ، ناخواندگی ، صحت اور رہائش جیسے اہم مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے کوئی نہ کوئی مداری کا کھیل کھیلا جاتا ہے ۔ آج کشمیر کے مسئلہ اس کی ایک زندہ مثال ہے اس پر جس قدر پاکستانی حکومت زور دے رہی ہے اس طرح دنیا بھر کی سوا کروڑ مسلم دنیا سنجیدگی سے نہیں لے رہی ہے ۔ 2019-20ء کا سالانہ بجٹ عوام دشمن بجٹ پیش کیا گیا جس میں مہنگائی ، بے روزگاری اور افراط زرمیں اس قدر اضافہ ہو گیا ہے کہ پاکستانی محنت کش اور درمیانہ طبقہ برے طریقے سے پس گئے ہیں ۔

ڈاکٹر عاصم سجاد کا کہنا تھا کہ 500 سالہ قدیم سرمایہ دارانہ استحصالی نظام کے باعث ہم ایک ایسی ڈھلوان پہ کھڑے ہیں جس کے ایک جانب اشرافیہ کے مفاد پہ مبنی نیولبرل پالیسی، ماحول اور مزدور طبقہ کی تباہی ہے جبکہ دوسری جانب ہم ایک ایسا معاشی نظام مرتب کرنا چاہتے ہیں جو سب کے لیے ہو، جس میں ٹیکنالوجی سے مناسب استفادہ کیا جائے اور جو فطرت کے موافق ہو اور انتخاب ہمارا ہو۔ان سے قبل پاکستان عوامی ورکز پارٹی کے کارکنان فہد دیس مکھ اور عالیہ امیر علی نے کارکنوں کو تربیتی لیکچر دیے ۔

ان تربیتی لیکچرز میں کہا گیا کہ حکمران طبقات ہمیشہ عوامی سوچ کو ان کے حقیقی مسائل کی بجائے دوسرے امور کی جانب موڑا دیتے ہیں جنکا عوام کے معاشی یا معاشرتی مسائل سے دور کا تعلق نہیں ہوتا ۔تربیتی لیکچرز میں اس بات پر غور کرنے ضرورت پر زور دیا گیا کہ آج پاکستان کی ترقی پسند قوتوں کو ایک اشتراکی ( سوشلسٹ ) سماج کے قیام کے لئے عوام کو شعوری طور پر کیسے بیدارکرنا چاہیے ۔فہد دیس مکھ نے اس بات کی وضاحت کرنے کی کوشش کی کہ سرمایہ دارانہ ترقی یافتہ دنیا میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کے ذریعے عوام تک کیسے شعور پھلایا گیا ۔ انہوں امریکہ میں اوکیسیو کارٹیز اور سینڈرز جبکہ برطانیہ میں لیبر پارٹی کی مثالیں پیش کیں۔

عالیہ امیر علی نے تحریک حقوق نسواں پر لیکچر کے دوران کہا کہ عورت کو بااختیار بنانا(وومین امپاورمنٹ) موجودہ ریاستی نظام کی ایک اصطلاح ہے جو کہ خواتین کو سرمایہ دارانہ نظام کا حصہ دار بنانا چاہتے ہیں یہ کوئی حقوق نسواں کا منصوبہ نہیں بلکہ اسکے برعکس ہے۔ انہوں نے مزید کہ کہا ہمارے معاشرے میں آئے روز خواتین کو جنسی ہراسانی ، کم تنخواہوں ، کام کو تسلیم نہ کرنا، بڑھتے ہوئے جنسی تشدد ، مذہبی انتہا پسندی جیسی مشکلات کا سامنا ہے۔ خواتین کو کبھی روایات و مذہب کے نام پہ قید کیا جاتا ہے یا پھر سرمایہ داری نظام میں بطور نمائش پیش کیا جاتا ہے۔

انہوں نے دورِ حاضر میں جنم لینی والی حقوق نسواں کی تحریکوں اور ان کو درپیش مسائل کو بیان کیا کہ کس طرح اس سماج میں سوشلسٹ تحریک حقوق نسواں کی سیاست کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.