جہلم

شادی سیزن شروع ہوتے ہی جہلم شہر سمیت ضلع بھر میں ’’شادی آرڈنینس کی دھجیاں اڑائی‘‘جانے لگیں

جہلم: شادی سیزن شروع ہوتے ہی جہلم شہر سمیت ضلع بھر میں ’’شادی آرڈنینس کی دھجیاں اڑائی‘‘جانے لگیں ۔
پابندی کے باوجود شادی بیاہ اور اس سے متعلق تیل مہندی کی رسومات کے موقع پر آتش بازی کے مظاہرے اور جدید اسلحہ سے فائرنگ رواج بن چکی ہے ۔جبکہ پولیس کی ملی بھگت سے بااثرافراد کی جانب سے تیل مہندی کی تقریبات کے موقع پر’’شراب و شباب اور رقص وسرورکی محفلیں ‘‘ بھی سجا ئی جاتی ہیں ۔
شہری اور دیہاتی تھانوں کی پولیس نے ایسی تقریبات کے باقاعدہ نرخ مقرر کر رکھے ہیں۔مال پانی وصولی کے باعث پولیس ایسے مواقعوں پر آنکھیں بند کرلیتی ہے ۔ڈی ایس پیزاور تھانوں کے ایس ایچ اوز سمیت ماتحت عملہ کا قانون شکنوں کے خلاف خاموشی اختیار کر نا سوالیہ نشان ہے ۔
رات کے وقت شادی کی تقریبات میں شہر و مضافاتی علاقوں میں فائرنگ کی آوازوں اور آتش بازی کے خوفناک دھماکوں سے گونج اٹھتاہے ۔لوگوں کی نیندیں اور سکون برباد ہوجاتاہے ۔مگر میرج ایکٹ کی خلاف ورزیاں کرنیوالوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جارہی ۔
شہر اور گردونواح کے علاقوں میں شادی بیاہ اور تیل مہندی کی رسومات کے موقع پر فائرنگ ، آتش بازی کے مظاہرے کرنے سمیت ساؤنڈسسٹم کا بے دریغ استعمال کر کے اونچی آواز میں فحاش گانے چلائے جاتے ہیں شراب کے نشہ میں دھت بگڑے نوجوانوں کی جانب سے بڑھکیں مارنے کا سلسلہ بھی نہ رک سکا۔ون ڈش کی جس طرح دھجیاں اڑائی جارہی ہیں ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی ۔
شادی اور ولیمہ کے موقع پر مہمانوں کو کئی ڈشوں پر مشتمل انواع اقسام کے کھانے پیش کیے جاتے ہیں اور شادی ہالز میں تقریبات کا سلسلہ رات گئے تک جاری رہتا ہے تیل مہندی یا بارات پر کی جانیوالی اندھادھند فائرنگ کے باعث متعددشہری جن میں معصوم بچے بھی شامل ہیں اندھی گولیوں کانشانہ بن کر موت کی وادی میں پہنچ چکے ہیں ۔
متعلقہ پولیس اور محافظ سکوارڈ کی طرف سے بھی کوئی کارروائی نہیں کی جاتی اور نہ ہی اعلٰی پولیس حکام کوئی نوٹس لے رہے ہیں ۔مٹھی گرم ہونے پر متعلقہ تھانوں کی پولیس تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے ۔
اس امر پر شہری ،سماجی ،مذہبی ، رفاعی ، فلاحی شخصیات نے وزیراعلیٰ پنجاب ،آئی جی پنجاب ،ڈی پی او جہلم، ڈپٹی کمشنر جہلم سے مطالبہ کیا ہے کہ نوٹس لیکر شادی آرڈیننس کی خلاف ورزی اور فائرنگ ،آتش بازی کے مظاہرے کرنیوالوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button