مسلم لیگ (ن) نے آنے والی نسلوں کو مقروض کردیا ہے، فواد چوہدری

0

اسلام آباد/ جہلم: وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ہماری حکومت کی ایک ماہ کی کارکردگی سابق حکومت کی ایک سال کی کارکردگی سے بہتر ہے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کا مالیاتی خسارہ 7.2 فیصد ہے، جس کا مطلب ہمارے اخراجات آمدنی سے 2 ہزار 7 سو 80 ارب روپے زیادہ ہیں، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 7.5 فیصد ہے اور مسلم لیگ(ن) کے 5 سالہ دور میں اس میں 5 گناہ اضافہ ہوا اور اسی دور میں یہ خسارہ 18 ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا۔غیرملکی زرمبادلہ کی یہ صورتحال ہے کہ وہ ڈیڑھ ماہ کی سطح پر آگئے ہیں اور ہمارے پاس پیسہ نہیں ہے کہ پم درآمدات کرسکیں۔

جہلم کے حلقہ این اے 67 سے منتخب ممبر اسمبلی فواد چوہدری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں کہا جارہا ہے کہ چندے پر ملک نہ چلائیں تو ناقدین ہمیں آگے جانے کا راستہ بھی بتا دیں کیونکہ سابق حکومتوں نے چندوں کے علاوہ کوئی طریقہ چھوڑا ہی نہیں ہے،2008 میں جب پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے حکومت سنبھالی تو 60 سال میں ملک کا قرضہ 60 کھرب روپے تھا جو 2013 تک 130 کھرب تک پہنچ گیا تھا جبکہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اس قرض کو 2018 تک 280 کھرب روپے تک پہنچا دیا۔اس سب کی ذمہ دار کیا 22 دن قبل آنے والی حکومت ہے، یہ وہ لوگ ہیں، جنہوں نے یہ سب کیا، مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے کوشش کی کہ یہ قرض مزید اوپر چلا جائے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ ’آج کی معیشت کی صورتحال کے ذمہ دار سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار اور کمپنی ہیں، جنہیں سابق وزیر اعظم کے خصوصی جہاز سے پاکستان سے باہر بھجوایا گیا‘۔ سابق دور میں مہنگے ترین قرضے لے کر کھلونے بنائے گے، پنجاب میں میٹرو لگائی گئی اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب نے صرف 10 برسوں میں 110 کھرب روپے خرچ کیے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج اسلام آباد، لاہور، ملتان میں میٹرو تو بن گئیں لیکن آج ان میٹرو کو چلانے کے لیے حکومت پنجاب کو سالانہ 8 ارب روپے درکار ہیں، اسی طرح اورنج لائن ٹرین پر 300 ارب روپے لے کر خرچ کیے گئے، جس کی ادائیگی ہم نے اور ہمارے بچوں نے کرنی ہے جبکہ اس ٹرین کو پٹڑی پر رکھنے کے لیے ہر سال 20 ارب روپے کی ضرورت ہوگی۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ سابق حکومتوں نے پاکستانی معیشت کے ساتھ جو کیا ہے وہ مجرمانہ فعل ہے، جس محکمے کو دیکھیں وہ تباہ و برباد ہوچکا ہے، ریڈیو پاکستان میں 700 افراد کنٹریکٹ پر بھرتی کیے گئے، ان کی تنخواہوں اور مستقل ملازمین کی تنخواہوں کے پیسے نہیں ہیں، 700 آدمیوں کو نکال نہیں سکتے لیکن خزانے میں تنخواہیں دینے کا پیسہ نہیں ہے۔

چندے پر تنقید کرنے والوں کو جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ خزانے میں پیسے نہیں ہیں تو کیا مزید قرضہ لیں؟ پھر باہر جائیں اور قرضہ مانگیں؟ کیا ہم نے اس ملک کو ایسے چلانا ہے، جس طرح گزشتہ تجربہ کار حکومتیں چلاتی رہی ہیں؟۔ہم نے کوشش کی ہے کہ امیر آدمی حکومت سے سبسڈی نہ لے اور غریب آدمی کی سبسڈی بحال رہے، ہم نے بجٹ میں تجاویز پیش کیں کہ گیس کی قیمتوں میں 50 کیوبک فٹ استعمال کرنے والوں پر صرف 10 فیصد اضافہ ہو جبکہ 1000 کیوبک فٹ استعمال کرنے والوں کے لیے 143 فیصد تک اضافہ ہو۔

وزیر اطلاعات کا کہنا تھا نوید قمراور لیڈر آف اپوزیشن کی میثاق معیشت کے حوالے سے بہت اچھی تجویز ہے، اس کو ضرور آگے بڑھنا چاہیے اور میثاق معیشت ہونی چاہیے، ہماری حکومت کا اصول ہے کہ غریب آدمی کو سختی سے بچائیں گے اور امیر آدمی کو ٹیکس دینا پڑے گا۔

فواد چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ کہا جارہا کہ گاڑیاں بیچنے سے ملک نہیں چلے گا تو انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ گزشتہ حکومت نے سارک کانفرنس کے لیے 98 کروڑ روپے کی 33 گاڑیاں خریدیں تاکہ بھارت، نیپال، بھوٹان کے سفیروں کو سیکیورٹی دی جاسکے‘۔جس کانفرنس کے لیے یہ گاڑیاں خریدیں وہ کانفرنس ہوئی ہی نہیں اور ان گاڑیوں کی مرمت پر 35 کروڑ روپے خرچ کیا گیا، لیکن کہا جارہا ہے کہ گاڑیاں نہیں بیچیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے جو گاڑیاں فروخت کیں اور وزیر اعظم نے جو سادگی کے اقدامات کیے کوئی وزیر اعظم ایسا نہیں کرتا جو عمران خان نے کیا‘۔انہوں نے کہا کہ’1100 کینال کا وزیر اعظم ہاؤس چھوڑ کر عمران خان 3 کمروں کے اسٹاف کالونی کے گھر میں رہ رہے ہیں اور انہوں نے اپنے صوابدیدی فنڈز بھی چھوڑ دیے ہیں‘۔

فواد چوہدری نے کہا کہ ’نواز شریف نے اپنے دور میں ایئرپورٹ اور موٹرویز کا اعلان اس طریقیسے کیا تھا جیسے کوئی ’اسٹریپسلز‘ کی گولیاں بانٹ رہا ہو‘۔انہوں نے کہا کہ ملک کی معیشت کی موجودہ صورتحال کے ذمہ داران کا ہمیں پتہ ہے، جس طریقے سے سابق حکومتیں چلی ہیں، ملک اس طرح نہیں چل سکتا۔

وزیر اطلاعات کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے جس انقلاب اور گڈ گورننس کا وعدہ کیا ہے وہ ایک مہینے میں نظر آرہا ہے اور میں چیلنج کرتا ہوں کہ سابق حکومتیں اپنی ایک سال کی کارکردگی اور ہماری ایک ماہ کی کارکردگی کو سامنے رکھ کر فیصلہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اور ہم نے جس تبدیلی کا وعدہ کیا ہے، انہیں انشاء اللہ اسے پورا کرکے دکھائیں گے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.