جہلم

نومنتخب حکومت کے تبدیلی کے سفر میں بزرگ پنشنرز کا بھی خیال رکھا جائے۔ پنشنرز

جہلم: نومنتخب حکومت کے تبدیلی کے سفر میں بزرگ پنشنرز کا بھی خیال رکھا جائے چیف جسٹس آف پاکستان ہم پر بھی نظر کرم کریں، ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ کے مختلف منصوبوں سے حاصل ہونے والے اربوں روپے کے منافع سے ہماری پنشن میں بھی اضافہ کیا جائے۔

ان خیالات کااظہار جہلم سے بزرگ پنشنر ملک محمد اسلم خان اور محمد انور راجہ و دیگر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ سرکاری محکموں میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کو ریٹائرمنٹ پر معقول رقم ملنے کے ساتھ ماہانہ پنشن بھی ملتی ہے جس سے وہ اپنے خاندان پر مالی بوجھ نہیں بنتے جبکہ حکومت نے صنعتی اداروں میں کام کرنے والے بزرگ پنشنرز کے لیے بھی قومی سطح پر ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا ہوا ہے جس کا لفظی معنی بڑھاپے میں مراعات کا ادارہ ہے جو صنعتی اور کاروباری اداروں میں ساٹھ سال کی عمر تک خدمات انجام دینے والے ملازمین کو پنشن دیتا ہے جس سے ان بوڑھے پنشنرز کو اپنے اخراجات پورے کرنے میں معمولی مدد ملتی ہے یہ ملازمین اپنے ادارے کی طرف سے ای او بی آئی میں رجسٹرڈ ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ادارہ اپنی طرف سے اور ملازم کی تنخواہ سے ماہانہ ای او بی آئی کو ماہانہ کنٹری بیوشن کرتا ہے اس طرح ساٹھ سال کی عمر کو پہنچنے والے رجسٹرڈ ملازمین کو ای او بی آئی کی طرف سے ماہانہ پنشن ملتی ہے ای او بی آئی ادارہ ایک خود مختار ادارہ ہے جس کے پاس اربوں روپے کے فنڈز اور وسائل ہیں جو اس ورکرز کی ملازمت کے دوران ان کی ماہانہ تنخواہوں سے حاصل ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ نے کئی منافع بخش پروجیکٹ بھی شروع کر رکھے ہیں جس سے نہ صرف ادارے کا سرمایہ محفوظ ہے بلکہ ان منصوبوں سے ای او بی آئی کو بہت زیادہ سالانہ منافع بھی حاصل ہوتا ہے ہونا تو یہ چاہیے کہ ورکرز کے سرمائے سے ہونے والی سرمایہ کاری پر ملنے والے منافع سے بوڑھے پنشنرز کو بھی حصہ دیا جائے۔آخر میں انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ جلد ازجلد اس سلسلہ میں نوٹس لیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button