جہلم

نیا تعلیمی سال کے آغاز کی تاریخ تبدیل، اساتذہ، طلباء و طالبات اور والدین سراپا احتجاج

جہلم: حکومت پنجاب کی طرف سے نئے تعلیمی سال کے آغاذ کے حوالے سے پہلے یکم مارچ اور پھر یکم اپریل کی تاریخ دینے پر جہلم سمیت پنجاب بھر میں اساتذہ ، طلبا وطالبات اور والدین سراپا احتجاج بن گئے۔
سالانہ امتحانات کے دوران حکومتی فیصلے نے اساتذہ اور بالخصوص سکولوں کی انتظامیہ کو وختہ میں ڈال دیا، جبکہ اساتذہ کی نمائندہ تنظیموں نے اسے بیوروکریسی کی تعلیمی دشمنی قرار دے دیا، سیکرٹری ایجوکیشن پنجاب کی جانب سے فروری کے آغاز پر تمام ضلعی ایجوکیشن افسران کو ہدایت کی گئی کہ فروری میں سالانہ امتحان لیکر 28 فروری تک نتائج کا اعلان کر دیں۔
اس کے لئے پنجاب بھر کے سکولوں کو سالانہ ڈیٹ شیٹ بھی جاری کی گئی کہ فلاں تاریخ کو فلاں فلاں پیپر ہوگا،اس حکم نامے کے بعد سکولوں نے ہنگامی طور پر سالانہ پیپر لینے کا آغاز کیا، ابھی سالانہ امتحانات آخری مراحل میں تھے کہ وزیر تعلیم نے یکم مارچ کی بجائے یکم اپریل سے ہی تعلیمی سال کے آغاز کااعلان کر دیا، جس کے باعث اساتذہ وختے میں پڑے ہوئے ہیں کہ سالانہ پیپر لینے کے بعد بچوں کا کیا کریں، اگر بچوں کے امتحانات کے نتائج کا اعلان کر دیتے ہیں تو انھیں اگلی کلاسوں میں بٹھانا پڑیگا۔
ادھر پنجاب ٹیچر یونین ، پنجاب ایجوکیٹر ایسوسی ایشن، پنجاب ایس ای ایس ٹیچر ایسوسی ایشن، سینئر سبجیکٹ ایسوسی ایشن ، ہیدماسٹرایسوسی ایشن کے عہدے داروں نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ محکمہ تعلیم کو مذاق بنا دیا گیاہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button