کھیوڑہاہم خبریں

کھیوڑہ میں انتظامیہ دوکانداروں سے زبردستی نقد ہزاروں روپے جرمانے وصول کر کے اپنے جیب بھرنے لگی

کھیوڑہ: زورزبردستی سے نقد ہزاروں روپے جرمانے وصول کر کے سرکاری خزانے میں جمع نہیں کروایا جاتا جسکی وجہ سے پولیس اہلکار ہراساں کرتے ہیں کہ ریکارڈ کے مطابق تمہارا جرمانہ ادا نہیں ہوا ہے جبکہ چیف آفیسر کی جانب سے جرمانے کی رسید پر جرمانے کی وجہ بھی تحریر نہیں کی جاتی۔ اعزازی مجسٹریٹوں سمیت دیگر سرکاری آفیسران نے مسلسل چھوٹے دوکانداروں کو نشانہ بنا رکھا ہے، ہمیں اپنے خاندانوں کی کفالت کرنے دی جائے اوربے جا جرمانوں کی تحقیقات کروائی جائے۔ دوکانداروں کا ڈی سی سمیت وزیر اعلی سے مطالبہ
تفصیلات کے مطابق کھیوڑہ کے چھوٹے دکانداروں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ٹاؤن کمیٹی کھیوڑہ کے چیف آفیسر کی جانب سے بے جا جرمانوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ ریٹ لسٹ کے مطابق چیز بیچنے پر بھی جرمانے کیے جا رہے ہیںجس کا سب سے زیادہ نشانہ چھوٹے گلی محلے کے دکانداروں کو بنایا جا ریا ہیںناحق جرمانہ وصولی کے باوجود پرچے بھی کروائے جا رہے ہیں۔
محلہ اسلام گنج کھیوڑہ میں گلی کے اندر چھوٹی سی کریانہ دکان (گھر سے ملحقہ) کے مالک محمد اعظم نے بتایا کہ 25 نومبر 2019 کو ٹاؤن کمیٹی کا ورکر چینی کا ریٹ پوچھنے کے لیے تقریباً دوپہر 2 بجے آیا تو اس کو چینی کا ریٹ 75 روپے فی کلو بمطاق سرکاری لسٹ بتایا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ شام 5 بجے دوبارہ ٹاؤن کمیٹی کا اہلکار آیا کہ آپ کو چیف آفیسرٹاؤن کمیٹی میں بلا رہے ہیں، میرے ساتھ دیگر 2 اور دکانداروں کو بھی بلایا گیا اور سب پر جرمانہ کر کے موقعہ پر وصولی بھی کی مجھ پر 3000 روپے جرمانہ کیا کہ آپ چینی 70 روپے فی کلو کیوں نہیں فروخت کر رہے جبکہ ریٹ لسٹ پر 75 روپے فی کلو ہے. جرمانہ کی رسید پر جرمانہ کی وجہ بھی نہیں لکھی۔
دوسرے دکاندار کو یہ کہہ کر 3000 روپے جرمانہ کیا کہ دو دن پہلے اس نے فی کلو گھی کسی شخص کو 225 روپے فی کلو بیچا ہے، وہ دکاندار بیچارا کہتا رہا کہ میں نے اس ریٹ پر کسی کو گھی نہیں بیچا کیونکہ یہ ریٹ ہے ہی نہیں اس کی ایک نہیں سنی گئی، جرمانہ کی عدم ادائیگی کی صورت میں پولیس چوکی پر پرچہ سے ڈرا دھمکا کر جرمانہ بھی وصول کر لیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ یکم دسمبر کو پولیس اہلکار نے بھی طلب کر لیا کہ جرمانہ ادا نہ ہونے کی وجہ سے آپ کے خلاف پرچہ درج ہے آپ کو چوکی پر بلایا گیا ہے۔
دکانداروں کے مطابق صرف مخصوص پی ٹی آئی کے حامی دکانداروں کو کچھ لوگوں کی ایماء پر نشانہ بنایا جا رہا ہے اس سے کئی طرح کے سوالات پیدا ہو رہے ہیں پہلی بات یہ کہ موقعہ پر جرمانہ کیوں نہیں کیا گیا، دوسرا ٹاؤن کمیٹی آفس بلا کر جرمانہ کرنے کی کیا وجہ ہے، اس طرح تو کسی بھی دکاندار کو بلیک میل کیا جا سکتا ہے کہ چار دن پہلے آپ نے کسی شخص کو فلاں چیز اتنے کی بیچی ہے لہذٰا جرمانہ ادا کرو۔
یہ ساری صورتحال ہے جو دکاندار حقیقتاً مہنگی چیزیں فروخت کر رہے ہیں، ان کے خلاف ضرور بھاری جرمانے کیے جائیں لیکن اپنی کارگردگی ظاہر کرنے کے لیے اور زیادہ سے زیادہ ریونیو اکٹھا کرنے کا ٹارگٹ پورا کرنے کے لیے چھوٹے دکانداروں کمزور سمجھ کر نشانہ بنایا جائے۔
دہائی دیتے ہوئے چھوٹے دوکانداروں نے ڈی سی جہلم سیف انور سمیت وزیر اعلی پنجاب سے اپیل کی ہے کہ جو سرکاری آفیسران اپنے اختیارات کا غلط استعمال کر کے عوام میں حکومت کے خلاف نفرت پیدا کر رہے ہیںہیں ان کے خلاف کارروائی کی جائے اور اس ظالمانہ سلسلے کو روکاجائے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button