جہلم

جہلم میں حفاظتی تدابیر کے تحت کھلوائی گئیں دکانوں پر حفاظتی تدابیر کا نام و نشان تک غائب

جہلم: شہر اوراس کے مضافات میں حکومت کی طرف سے حفاظتی تدابیر کے تحت کھلوائی گئیں دکانوں پر حفاظتی تدابیر کا نام و نشان تک غائب، دکانوں پر میلے کا سماں ،نہ دائرہ ،نہ سینٹائزر اور نہ ہی کہیں دستانے ہر دکاندار مال کمانے کی دھن کے ساتھ احتیاطی تدابیر فراموش کر بیٹھا ،کورونا وائرس پھیلنے کے خدشات بڑھنے لگے ۔

تفصیلات کے مطابق حکومت پنجاب نے تاجروں اور صارفین کی پریشانی کے پیش نظر چند کارروبار کو احتیاطی تدابیر کے ساتھ کھولنے کی اجازت دے رکھی ہے تاکہ کارروباری حضرات کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کاپہیہ رواں دواں رہے اور تاجر بھی احتیاط بھرتتے ہوئے اپنی روزی روٹی کما سکیں۔

شہر سمیت ضلع جہلم کی چاروں تحصیلوں کے تاجروں نے ساری احتیاطی تدابیر کو پس پشت ڈال کر کارروبار شروع کررکھے ہیں جس کی وجہ سے ہر دکان پر میلے کا سماں ہمہ وقت نظر آتا دکھائی دیتا ہے ، کسی بھی دکان کے باہر نہ تو سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کے لئے دائرہ نظر آتا ہے جہاں گاہک اپنی باری کا انتظار کرنے کے بعد سامان خرید سکیں اور نہ ہی کسی دکان کے داخلی دروازے کے قریب ہینڈ سینٹائزرنظر آتا ہے اوپر سے دکاندار بھی بغیر ماسک ، دستانوں اور دیگر حفاظتی اقدامات کئے بغیر بلا خوف خطر دولت کمانے میں مصروف نظر آتے ہیں۔

عوامی سماجی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سے مطالبہ کیا ہے کہ کورونا ایس او پیز کو ہوا میں اڑانے والے کارروباری مراکز جہاں اشیاء خوردونوش فروخت کی جارہی ہیں کے دکانداروں کو حفاظتی انتظامات کرنے کا سختی سے پابند بنایا جائے تاکہ شہری کورونا وبا سے محفوظ رہ سکیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button