پنڈدادنخاناہم خبریں

6لاکھ آبادی، 4 لاکھ ایکڑ اور 16 یونین کونسلز پر مشتمل پنڈدادنخان پسماندگی کی مثال بن گیا

پنڈدادنخان: 6لاکھ آبادی،4 لاکھ ایکڑ اور 16 یونین کونسلز پر مشتمل تحصیل پنڈدادنخان پسماندگی کی ایک مثال بن چکا ہے ، نمک سوڈا ایش کی وجہ سے زیر زمین پانی کڑوا اور کھاری ہو چکا ہے اور اس کھاری پانی کی وجہ سے زمین بنجر ہوتی جا رہی ہے اور پینے کے پانی کا مسئلہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے ۔

پنڈدادنخان کی چار یونین کونسل خاص طور پر پانی کے مسئلے سے دوچار ہیں۔گول پور، للِہ، احمد آباد، ٹوبھ اس میں شامل ہیں ۔ یہ یونین کونسل اس دور جدید میں بھی پانی کی بوند بوند کے لیے ترسے ہوئے ہیں، پانی یہاں عید کے چاند کی طرح ہی دستیاب ہوتا ہے، یہاں کے لوگ اب بھی جوہڑوں سے بھی پانی پینے پر مجبور ہیں جس کی وجہ سے ان علاقوں میں یرقان اور معدے کی بیماریاں عام ہو رہی ہیں لیکن کوئی بھی اس مسئلے کو حل کرنے کو تیار نہیں ہے۔

اس علاقے کے پانی کا مسئلہ حل کرنے کے لیے کئی منصوبے بنائے گئے ۔ ان میں سب سے بڑا اور قابل ذکر منصوبہ چشمہ نڑومی ڈھن ہے ،اس منصوبے پر کام شروع کیا گیاتھا، اٹھارہ کروڑ کی لاگت سے تاکہ ان علاقوں میں پانی کے مسئلے کوحل کیا جا سکے اور امید تھی کہ اس منصوبے کی تکمیل سے ان علاقوں میں پانی کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ اقربا پروری انتظامی نااہلی کے باعث پچاس کروڑ سے اس کے اخراجات تجاوز کر چکے ہیں لیکن ابھی تک یہ مکمل نہیں کیا جا سکا۔

حکام کہتے ہیں کہ اس کا ایک فیز مکمل جب کہ دو فیز پر ابھی کام ہو رہا ہے لیکن علاقہ تھل کے لوگ پانی کی اس کمی کی وجہ سے ایک سال سے احتجاج کر رہے ہیں، کبھی جلوس کبھی سیاسی وڈیروں کی منتیں ۔ لیکن شنوائی کہیں بھی نہیں ۔ اہل علاقہ نے وزیر اعلی پنجاب سے مطالبہ کیا ہے اس علاقے میں پانی کے مسئلے کو ہنگامی بنیادوں پر حل کیا جائے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button