واپڈا والو! کوئی شرم ہوتی ہے ۔ کوئی حیا ہوتی ہے

تحریر: محمد امجد بٹ

0

نئے پاکستان کے پرانے باسی کی سال اول کی پہلی تحریر جس میں نئے پاکستان کے علمبرداروں کو پرانے پاکستانیوں کی سرد موسم میں منجمد زندگی کو درپیش مسائل کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔

پیارے پڑھنے والو!
عرصہ قبل جب ٹی وی چینلوں کی بھرمار نہیں تھی۔جب گھر گھر میں کیبل کے کنکشن نہیں تھی ۔جب ملک کو تباہی کے دھانے پر پہنچانے والے ٹاک شو نہیں تھے۔تب سکون تھا ، امن تھا اور قوم کو صرف سرکاری ٹی وی پر سرکار کی مدح سرائی کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا تھا اس دور کی بات ہے جب سرکاری ٹی وی پر حکومت کی طرف سے دیا گیا اشتہار چلتا تھا ۔ مجھے آج بھی اس کمرشل میں گائے گئے گیت کے کچھ کچھ بول یاد ہیں ۔بول شاید کچھ یوں تھے۔

میرے ملک میں بجلی آئی ہے۔۔۔۔ میرے ملک میں بجلی آئی ہے۔۔۔۔۔۔ میرے کچے پکے آنگن میں خوشحالی سی لہرائی ہے۔۔۔۔۔۔ میرے ملک میں بجلی آئی ہے۔۔۔۔۔ اب پورا ہو گا یہ وعدہ کہ راج کرے گی خلق ِ خدا ۔۔۔۔۔۔ اب ڈاکٹر گائوں میں جائیں گے ۔۔۔ بچے بھی پڑھ پائیں گے ۔۔۔خوشی چہروں پہ لہرائی ہے میرے ملک میں بجلی آئی ہے۔

اب یہ گیت پوری قوم کچھ اس طرح گا رہی ہے۔
میرے ملک میں بجلی آئی ہے؟؟؟؟ میرے ملک میں بجلی آئی ہے؟؟؟ میرے کچے پکے آنگن میں بدحالی سی لہرائی ہے ۔۔۔۔۔۔ میرے ملک میں بجلی آئی ہے؟؟؟ اب پورا ہو گا یہ وعدہ کہ پس کہ رہے گی خلقِ خدا کل جھوٹ تھا اب سچائی ہے۔۔۔۔۔ میرے ملک میں بجلی آئی ہیَ؟؟ اب ڈاکٹر گاؤں نہ جائیں گے ۔۔۔ بچے بھی نہ پڑھ پائیں گے ۔۔۔۔۔ شیروں کی حکومت آئی ہے ۔۔۔۔ میرے ملک میں بجلی آئی ہے؟؟؟ ۔

پھر بجلی آ گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر بجلی ملنے لگی۔۔۔۔ پھر بجلی آنے لگی۔۔۔۔ پھر بجلی جانے لگی۔۔۔۔۔۔۔ پھر بجلی گرنے لگی۔۔۔۔پھر بجلی نے آنا جانامعمول بنا لیا ۔۔۔ اب تو بجلی کے آنے جانے سے اتنی امیدیں وابستہ ہو گئیں کہ مرنے والے بھی بجلی کے آنے جانے کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔

میرے ایک دوست نے بجلی کے فوائد اور نقصانات کے بارے ایک لمبی چوڑی کتاب لکھی ہے جس میں اس نے ایک لطیفہ بھی لکھا ہے ۔لطیفہ کچھ یوں ہے کہ ایک سردار کے سر پر بجلی کے ننگے تار گر گئے۔سردار کچھ دیر تڑپنے کے بعد بے ہوش ہو گیا۔کافی دیر بعد جب سردار کو ہوش آیا تو اس نے دیکھا کہ اسکے گرد ایک ہجوم کھڑا ہے ۔سردار نے حیرت زدہ ہوتے ہوئے پوچھا کیا تم سب میرے اعمال کا حساب لینے آئے ہو؟؟؟

ہجوم میں موجود لوگوں نے کہا سردار صاحب ۔ حساب کائے کا تم تو زندہ و سلامت ہو۔سردار نے کہا وہ کیسے مجھ پر تو بجلی کے ننگے تار گرے تھے۔میں تو کرنٹ لگنے سے مر گیا تھا۔ہجوم میں موجود تمام لوگوں نے قہقہے لگاتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ اووووووو سردار صاحب۔۔۔یہ پاکستان ہے یہاں کی بجلی کی تاریں انسانوں کو کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔

سردار ششدر ہو کر گویا ہوا ۔ وہ کیسے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ لوگوں نے کہا سردار جی یہاں کی تاروں میں بجلی ہو گی تو کوئی نقصان ہو گا ناں؟؟؟؟؟ یہاں تو بجلی ہی نہیں ہوتی ۔ اٹھو اور اپنی راہ لو ۔۔۔۔ سردار جی خوشی سے اٹھے اور نعرہ لگایا۔۔۔۔۔۔ واپڈا والے زندہ باد۔۔۔۔۔۔پیارے پڑھنے والو۔۔۔۔۔۔ وپڈا والوں نے صرف ایک سردار کی جان نہیں بچائی بلکہ روزانہ سینکڑوں ایسے لوگوں کی جان بچا رہے ہیں جو حالات سے دلبرداشتہ ہو کر خود کشیاں کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔۔۔۔۔۔

جنکے شام و سحر بے مزہ ہو چکے۔۔۔۔۔جنکے بچوں کو پیٹ بھر کر کھانا نصیب نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔۔ جنکی معصوم بچیوں کو وحشی درندے جنسی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ جنکی جمع پونجیاںلوٹی جا رہی ہیں۔۔۔۔۔۔ تھانوں میں جنکی آبرئوں کی بولی لگائی جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔ کچہریوں میں جو انصاف کے حصول کے لئے مارے مارے پھرتے ہیں۔۔۔۔۔۔ اگر واپڈا والے بھی نہ ہوں تو یہ سب روزانہ کے حساب سے بجلی کے ننگے تاروں سے چمٹ کر خود کشیاں کر رہے ہوں۔۔۔۔۔۔ بجلی نہیں ہوتی ۔۔۔ اسی لئے تو خود کشیاں کم ہیں۔ہمیں چاہیے کہ واپڈا والوں کو انسان دوستی کا انعام دیں۔۔۔۔۔

دیکھیں ناں۔۔۔۔۔۔ واپڈا والے ہی تو ہیں جو غریب پرور ہیں۔۔۔۔ غریوں کو بجلی نہیں دیتے ۔۔ اگر بجلی ملے تو غریب اسکا غلط استعمال کرے گا۔اسی لئے تو اربابِ پانی و بجلی بڑے بڑے لوگوں کو بجلی دیتے ہیں کیوں کہ وہ بجلی کا ہر استعمال بخوبی جانتے ہیں۔۔غریب نے بجلی کرنی بھی کیا ہے؟؟؟؟؟ کون سا اس نے گھر کے پرتعیش کمروں میں اپنے بچوں کوگرم رکھنا ہے۔۔۔ یہ امیروں کے استعمال کی چیز ہے انہی کو زیبا ہے۔۔ امیروں کے بچے ہی تو بچے ہوتے ہیں جنکو مرغی کے بچوں کی طرح موسمی اثرات سے بچانا ضروری ہے کیونکہ وہ ہمارے مستقبل کے معمار ہوتے ہیں۔بڑے ہو کر انہوں نے ہی تو حقِ حکمرانی ادا کرنا ہوتا ہے۔

غریب کے بچوں کا کیا ہے ۔یخ بستہ ریت پر بھی میٹھی نیند سو سکتے ہیں۔ مچھر انکا خون تب چوسے گا جب ان میں خون ہو گا۔جبکہ امیروں کے بچوں میں تو خون کا حساب لگانا ناممکن ہوتا ہے کہ ان میں کتنا خون ہے اور کس کا خون ہے۔۔غریب نے بجلی کرنی بھی کیا ہے ؟؟؟؟ کیا اس کی اوقات ہے کہ وہ اسکا بل جو غنڈا ٹیکس کے مترادف ہے ادا کر سکے۔۔۔۔۔۔

بجلی تو بجلی ہے امیروں کی ہو یا وزیروں کی۔ کام بھی انھی کے آتی ہے۔۔۔۔ غریب کے منہ سے نوالہ چھینتے ہوئے پہلے تو اس پہ بلوں کا بوجھ ڈالا گیا اب بجلی کی بندش سے اسکی سانسوں کی بندش کا کام لیا جا رہا ہے۔غریب کے لئے بجلی ایک خواب اور عذاب بنتی جا رہی ہے۔۔۔ کیا کرے غریب اس نے بھی اپنے تمام کاروبارِ حیات جو بجلی سے منسلک کر کے جدید دور میں شامل ہونے کی ٹھانی تھی ۔مگر اب تو یہ جدید دور کا قدیم انسان بن رہا ہے۔۔۔۔

بجلی کی بندش سے معیشت کا پہیہ نہ صرف رک گیا ہے بلکہ ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا ہے۔۔۔۔لوگ پوچھتے ہیں اربابِ پانی و بجلی سے کہ کیا قصور ہے غریبوں کا ؟؟؟؟؟ یہ خوف کے مارے بل بھی دیں مگر آپ سوائے طفل تسلیوں کے آپ کچھ نہ دو۔اب تو یہ حالت ہو گئی ہے کہ جو بجلی خیرات میں دی جا رہی ہے ۔وہ غریوں پر عذاب کی طرح ٹوٹ رہی ہے۔بل پورے لینے والے بجلی کے اتنے کم وولٹیج دے رہے ہیں کہ گھروں کے برقی آلات جل رہے ہیں ۔اور انہیں دوبارہ خریدنے کی لوگوں میں سکت نہیں۔

اب تو بجلی ہونے کے باوجود لوگ برقی آلات استعمال کرنے سے اس طرح گریزاں ہیں جیسے بجلی کے ننگے تاروں کو ہاتھ لگانے سے۔لگتا ہے کہ یہ سوچی سمجھی سازش کے تحت’’’ انسان مکاؤ ۔ سامان مکاؤ‘‘‘ مہم شروع ہے۔نہ سامان رہے گا نا بجلی مانگیں گے۔خدارررررررررا۔ رحم کرو ان زبان رکھنے والے بے زبانوں پہ جو اتنے ظلم سہہ کے بھی اف نہیں کر رہے ۔ اگر ان زبان والوں کو بولنے کا سلیقہ آ گیا تو پھر تمھارررررررررا ’’’’’نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری‘‘‘‘‘‘‘

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.