جہلم میں لڑکیوں کی شادی کرنے کی بجائے قتل کرنے والے قبیلے کا انکشاف

0

جہلم: جہلم میں لڑکیوں کی شادی کرنے کی بجائے قتل کرنے والے قبیلے کا انکشاف، 6 جون کو اسی قبیلے کے قانون کی بھینٹ چڑھنے والی 24 سالا یاسمین بھی شامل، قبیلے کی دو جوان بہنوں نے گھر سے بھاگ کر پولیس سٹیشن پہنچ گئیں، یاسمین کو پلان کر کے گھر والوں نے زہر دے کر مارا ہے، ہمارے خاندان میں لڑکیاں بوڑھی ہو گئی ہیں لیکن انکی شادی نہیں کروائی جاتی، ہمارے خاندان میں عورتیں چوڑیاں بیچنے کا کام کرتی ہیں، ہمارا والد قبیلے کا سردار ہے سارا قانون اسی کا بنایا ہو ہے، گھر سے بھاگنے والی بہنوں کا پولیس کو بیان قلمبند۔

تفصیلات کے مطابق جہلم میں ایک ایسے قبیلے کا انکشاف ہوا ہے جو اپنی لڑکیوں کی شادیأں کرنے کی بجاے کسی نہ کسی طریقے سے قتل کر دیتے ہیں۔ اس بات کا انکشاف تب ہوا جب 6 جون کو تھانہ صدر مخدومہ اباد کے علاقے میں 24 سالا لڑکی کو مبینہ طور پر زہر دے کر قتل کر دیا گیا ہے، قتل کرنے کے بعد لڑکی کو طبعی موت کا واویلا مچا کر جب دفنانے میں کچھ دیر باقی تھی کہ میڈیا کے پہنچنے کے بعد پولیس نے لاش کو پوسٹمارٹم کروانے کے بعد مقتولہ کے باپ دادا اور چچا کو گرفتار کر لیا۔

اس واقعے کے ڈیڑھ ہفتہ گزرنے کے بعد مقتولہ کی دو پھوپھیاں رات کی تاریکی میں گھر سے نکل کر پولیس کے سامنے ہو شربا انکشاف کر دیے۔ مقتولہ کی بڑی پھوپھی (س) اور (ز) نے پولیس کو بتایا کہ ہمارے خاندان میں تمام عورتیں کام (چوڑیاں فروخت کرنا)کرتی ہیں، میرے باپ کا نام کالے خان ہے اور وہ ہمارے قبیلے کا سردار بھی کہلاتا ہے میرے 8 بھائی اور 5 بہنیں ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ میرے باپ کالے خان کا اپنا بنایا ہوا قاعدہ قانون ہے، وہ خاندان میں بہت کم لڑکیوں کی شادی کی اجازت دیتا ہے اور لڑکیاں بیٹھی بیٹھی بوڑھی ہو جاتی ہیں اور شادی نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ خاندان کی لڑکیاں چوڑیاں بیچ کر گھر کا نظام چلا سکیں اگر کو?ئی لڑکی ایسا سوچے پہلے تو اسے ڈرا دھمکا کر چپ کروا دیا جاتا ہے اگر بات بڑھ جائے تو اسے یاسمین کی طرح زہر دے کر دفنا دیا جاتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ہماری بڑی تین بہنوں نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے جس کے بعد انکا مکمل داخلا خاندان میں بند کر دیا گیا ہے اور ہم دو بہنیں بھی بھاگ کر نکلی ہے گھر سے کیونکہ ہمیں بھی اس کے بعد قتل کر دیا جائے گا۔

کالے خان کی چھوٹی بیٹی نے پردہ فاش کرتے ہوئے بتایا کہ میری بھتیجی یاسمین کی عمر 24 سال تھی اور اسکا رشتہ خاندان سے باہر گھر میں آیا تو خاندان والوں کو یہ بات ناگوار گزری اور 6 جون عید کے دوسرے دن میرے والد کالے خان میرے بھائی ریاست اور مظہر پہلوان نے زبردستی اسکو زہر پلوایا اور میرے شور کرنے پر میرے منہ میں کپڑا ڈال کر چپ کروا دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ گھر میں میرے علاوہ کوئی عورت اور موجود نہیں تھی، میری بھیتیجی یاسمین نے تڑپ تڑپ کر جان دے دی اور مجھے دھمکی دی گئی کہ اگر کسی کو بتایا تو تمہیں قتل کر دیں گے، میں ڈر کے مارے خاموش ہوگئی، مجھے ڈر تھا کہ ہمیں بھی قتل کر دیا جائے گا کیونکہ اس قتل سے پہلے میری بھابی کو بھی قتل کیا ہے، میرے والد اور بھائیوں نے اور اسے بھی طبعی موت کا بہانہ بناکر دفنا دیا گیا۔

پولیس نے تمام بیان قلمبند کرنے کے بعد ملزم کالے خان ریاست اور مظہر پہلوان کو گرفتار کر کے دونوں بہنوں کو تحفظ کے لیے دارلامان پہنچا دیاگیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ فرانزک رپورٹ آنے کے بعد ہم اپنا موقف دیں گے اور پولیس نے تفتیش کا اغاز کر دیا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.