جہلم

مسجد میں سرکاری سکول قائم، آئے روز مسجد کو تالہ لگائے جانے سے بچوں کا مستقبل خطرے میں

جہلم: ضلعی انتظامیہ کی بغل کے نیچے 30 سالوں سے مسجد میں سکول قائم سرکاری سکول کے اندر3 سو سے زائد طلباء و طالبات تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ، مسجد انتظامیہ آئے روز تالے لگا دیتی ہے ،زیر تعلیم بچوں کا مستقبل خطرے میں ، علاقہ مکینوں کا ڈپٹی کمشنر، سی ای او تعلیم سے نوٹس لینے کا مطالبہ ۔

تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنر ، چیف ایگزیکٹو آفیسر محکمہ تعلیم کے دفاتر سے چندسو گز کے فاصلے پر ڈھوک فردوس کی جامع مسجد کی بالائی منزل میں قائم سرکاری سکول جو کہ پچھلے 30 سالوں سے قائم ہے ، مسجد انتظامیہ آئے روز بالائی منزل کو تالے لگا دیتی ہے جس کی وجہ سے سکول میں زیر تعلیم طلباء و طالبات سمیت معلم و معلمات کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔

اہلیان علاقہ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ چار ماہ قبل محکمہ تعلیم کے ضلعی افسران کو تحریری نوٹس بھجوایا تھا کہ سکول کو سرکاری عمارت میں منتقل کیا جائے لیکن محکمہ تعلیم کے افسران کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی ، مجبوراً مسجد انتظامیہ نے چند ایک کمروں کو تالے لگائے ہیں ، موسم گرما کی چھٹیوں کے بعد جب بچے سکول پہنچے تو مسجد انتظامیہ نے کمروں کو تالے لگارکھے تھے ، اساتذہ نے قوم کے نونہالوں کو مزید چھٹیاں دینے کی بجائے انہیں، گلی اور مسجد کے ہال میں بٹھا کر زیور تعلیم سے آراستہ کرنا شروع کر رکھا ہے ۔

اہل محلہ نے ڈپٹی کمشنر جہلم ، سی ای او محکمہ تعلیم سے مطالبہ کیاہے کہ محلہ ڈھوک فردوس کے علاقہ مکینوں کے بچوں کے بہتر مستقبل کے لئے سرکاری عمارت تعمیر کی جائے جہاں بچے بلا خوف اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button