جہلم

حضرت عثمان غنیؓ کے دور خلافت کے پہلے 6 سالوں کی فتوحات تاریخ کا سنہری باب ہیں۔ خلیل حسین

جہلم: مرکزی جماعت اہلسنت کے ضلعی امیر سید خلیل حسین کاظمی نے کہا ہے کہ حضرت سیدنا عثمان غنیؓ کے دور خلافت کے پہلے 6 سالوں کی فتوحات تاریخ کا سنہری باب ہیں ،خلیفہ سوم حضرت سید ناعثمان غنیؓ کا دور خلافت مثالی و انقلابی اصلاحات بے مثال فتوحات اور کامیابیوں وکامرانیوں کے ایسے واقعات پر مشتمل ہے جن پر امت مسلمہ اور تاریخ اسلام ہمیشہ فخر کرتی رہے گی۔آپؓ اتنے غنی اور فیاض تھے کہ غنی آپ ؓکے نام کا حصہ بن گیا۔

ان خیالات کا اظہار سید خلیل حسین کاظمی نے مدرسہ انجمن تعلیم الاسلام شمالی محلہ جہلم میں خلیفہ سوم حضرت سیدنا عثمان غنی ؓ کے یوم شہادت کے حوالے سے اخبار نویسوں سے خصوصی گفتگو کے دوران کیا ، انہوں نے کہا کہ امیرالمومنین حضرت سید نا عثمان غنیؓ کا شمارعشرہ مبشرہ میں ہوتا ہے آپ کو کاتب وحی ہونے کے علاوہ سرور کائنات حضر ت محمدؐ کے خطوط لکھنے کی سعادت بھی حاصل تھی وہ حافظ قرآن جامع القرآن اور ناشر القرآن بھی تھے۔

انہوں نے کہا کہ خلیفہ سوم نے اپنے دور خلافت میں افواج کو وقت کے تقاضوں کے مطابق جدید عسکری انداز میں منظم کیا اور آپ ہی کے دور میں حضرت امیر معاویہؓ نے اسلام کا پہلا بحری بیڑا تیا ر کر کے بحراوقیانوس میں اسلام کا عظیم لشکر اتارا۔ آپؓ کی فوجوں نے فرانس و یورپ کے کئی ممالک میں اسلام کا آفاقی پیغام پہنچایا۔اسلامی فوجوں نے آپ کے دور خلافت میں سندھ ،مکران ،کابل اور طبرستان سمیت کئی ایشائی ممالک میں فتوحات حاصل کیں اور اسلامی حکومت کی سرحدیں یورپی سرحد تک پھیل گئی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ خلیفہ سوم حضرت سیدناعثمان غنیؓ کی شخصیت کے دیگر نمایاں پہلو بھی ایمانی خصوصیات کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں جس پر امت مسلمہ کو فخر ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button