دینہاہم خبریں

دو منٹ صبر کرنے کا کیوں کہا؟، دینہ میں کار ڈرائیور کا رکشہ ڈرائیور پر وحشیانہ تشدد

دینہ: جی ٹی روڈ پر کارڈرائیور کا رکشہ ڈرائیور پر وحشیانہ تشدد، رکشہ ڈرائیور نے کار ڈرائیور کو 2 منٹ صبر کرنے کا کہا ، بگڑے رئیس زادے نے رکشہ ڈرائیور کو گندگی غلیظ گالیاں دینے کے ساتھ ساتھ گھونسوں، ٹھڈوں، مکوں ، تھپڑوں کی بارش کر دی ، رکشہ ڈرائیور اللہ رسول کے واسطے دیتا رہا، چند گز پر موجود پولیس چوکی کے ملازمین نے مداخلت نہ کرکے بااثر کا ر ڈرائیور کی پشت پناہی کی ۔ متاثرہ رکشہ ڈرائیور مدد کے لئے پولیس چوکی گیا تو پولیس نے کارروائی کی بجائے لالی پاپ دیکر ٹرخا دیا۔

تفصیلات کے مطابق دینہ کے علاقہ چک الماس باغاں کے رہائشی بشارت محمود ولد عبدالرزاق نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ میں اپنی فیملی کے ساتھ رکشہ پر موجود تھا اور جی ٹی روڈ سبزی منڈی کے مقام پر یوٹرن لیتے وقت مخالف سمت سے آنے والی گاڑیوں کے گزرنے کے انتظار میں کھڑا تھا کہ پیچھے سے آنے والی کار کے ڈرائیور نے ہارن مارنا شروع کر دیا۔

متاثرہ شخص نے بتایا کہ میں نے اس کو کہا کہ آگے جی ٹی روڈ پر سے گاڑیاں گزر رہی ہیں جونہی سڑک خالی ہوگی تو میں سڑک عبور کرونگا، جس کارکا ڈرائیور سیخ پاہوگیااور مجھے غلیظ گالیاں دینا شروع کر دیں میں نے اسے بتایا کہ میرے ساتھ میری فیملی موجود ہے آپ زیادتی کر رہے ہیں اس کا غصہ ٹھنڈا نہ ہوا اور کار ڈرائیور دینہ چوک میں پہنچ کر میرا انتظار کرنے لگا جونہی میں چوک کے قریب پہنچا تو وہی کار نمبریAAG291 میرے رکشہ کے آگے کھڑی کر دی گئی۔

متاثرہ شخص نے بتایا کہ ڈرائیور نے میرے اوپر لاتوں ، مکوں ٹھڈوں ، تھپڑوں کی برسات کر دی میں اور میری فیملی کار ڈرائیور کو اللہ اور اللہ کے رسول کے واسطے دیتے رہے لیکن اس نے میری ایک نہ سنی ، وحشیانہ تشدد کرنے کے بعد کار ڈرائیور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے ہوئے موقع سے بھاگ گیا، وقوعہ کی اطلاع بابت میں نے 15 پر کال کی حسب معمول پٹرولنگ پولیس تاخیر سے پہنچی۔

رکشہ ڈرائیور بشارت محمود نے بتایا کہ حصول انصاف کی غرض سے پولیس چوکی دینہ گیا ،پولیس نے داد رسی کرنے کی بجائے لالی پاپ دیکر ٹرخا دیا، متاثرہ محنت کش نے ڈی پی او جہلم شاکر حسین داوڑ سے مطالبہ کیا ہے کہ کار نمبری AAG / 291 کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور پولیس چوکی دینہ میں تعینات محرر کے خلاف انکوائری کروائی جائے تاکہ حصول انصاف کے لئے جانے والے سائلین کی داد رسی ممکن ہو سکے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button