جہلم

جہلم میں زیرزمین پلوں کی عدم دستیابی کے باعث ٹریفک حادثات روزانہ کا معمول بن گئے

جہلم: زیر زمین پلوں کی عدم دستیابی کے باعث ٹریفک حادثات روزانہ کا معمول بن گئے،درجنوں افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں ،سینکڑوں زخمی اور بے شمارا فراد معذور ہوکر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ،انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنے کے لئے جہلم کینٹ چوک اور جادہ جی ٹی روڈ کے مقام پر زیر زمین پلوں کی تعمیر اشد ضرورت ہے این ایچ اے کے ارباب اختیار عوامی مسئلے پرتوجہ دیں ، شہریوں کا مطالبہ

تفصیلات کے مطابق لاکھوں افراد پر مشتمل ضلعی ہیڈ کوارٹر جہلم جس پر ملحقہ علاقوں کی عوام کا بھی بوجھ ہے جی ٹی روڈ پر شہریوں کی کراسنگ کے لئے چھاؤنی چوک، اورجادہ کے مقام پر زیر زمین پل نہ ہونے کے باعث ٹریفک حادثات روزانہ کا معمول بنے ہوئے ہیں۔

گزشتہ چند سالوں کے دوران درجنوں مرد و خواتین حادثات کی وجہ سے لقمہ اجل بن چکے ہیں ،سینکڑوں زخمی اور بے شمار مستقل طور پر معذور ی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جہلم شہر سمیت ملحقہ دیہاتوں ، تحصیلوں ، قصبات کے ہزاروں افراد ر وزانہ کی بنیاد پر ضلعی ہیڈ کوارٹر جہلم میں روزمرہ استعما ل کی اشیائے ضروریہ اور دیگر سرکاری امور کی انجام دہی کے لئے جہلم شہر کا رخ کرتے ہیں جس کے باعث جی ٹی روڈ پر شہریوں اور ٹریفک کا رش بڑھ جاتا ہے۔

جی ٹی روڈ جہلم شہر کے عین وسط سے گزر رہی ہے اور جی ٹی روڈ کے دونوں اطراف آبادی قائم ہونے کے باعث شہریوں اور دیگر امور نمٹانے کے لئے شہریوں کو جی ٹی روڈ پیدل اور گاڑیوں کے ذریعے عبور کرنا پڑتی ہے ا س لئے جی ٹی روڈعبور کرنے کے لئے زیر زمین پل نہ ہونے کی وجہ سے اکثر اوقات تیز رفتار گاڑیوں کے ٹکرانے سے خونی حادثات رونما ہوتے رہتے ہیں۔

محتاط اندازے کے مطابق متعدد افراد ان حادثات کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں سینکڑوں افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ بیشمار حادثات کیوجہ سے معذوری کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ بدقسمتی سے منتخب ممبران قومی و صوبائی اسمبلی اس اہم اور گھمبیر مسئلے کی جانب توجہ دینے کی بجائے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں مشغول ہیں ، جس کی وجہ سے ضلع جہلم پتھر کے زمانے کی منظر کشی کر رہا ہے ۔

آئے روز جہلم کے مقام پر ہونے والے ٹریفک حادثات میں انسانی جانوں کے ضیاع کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری و ساری ہے ،ضرورت اس امر کی ہے کہ منتخب ممبران قومی و صوبائی اسمبلی ،ارباب اختیارکی توجہ اس اہم مسئلے کی جانب مبذول کروائیں تاکہ جہلم جی ٹی روڈ پر ہونے والے حادثات اموات میں کمی واقع ہو سکے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button