کالم و مضامین

تاریخ کے آئینہ میں جہلم

تحریر: ایم قادر خان

سرزمین جہلم کے اولین آبادکار ڈو ویڈن اس کے بعد کول بھی اس علاقے میں بود و باش اختیار کرنے لگے۔ جہلم میں ابتدائی قبائل آگ کی پوجا (زرتشت) کیا کرتے تھے، ڈوویڈن کے بعد آرین، کول، سنتال اور منڈا قبائل آباد ہوئے۔

اس سرزمین کے نام کے بارے میں کئی روایات ہیں ایک روایت کے مطابق جہلم کا نام ’’جل ہم‘‘ تھا جل کا مطلب پانی اور ہم کا مطلب ٹھنڈا اور میٹھا۔ ایک روایت کے مطابق جہلم یونانی زبان میں ایک چھوٹا نیزہ نما ہتھیار کو کہا جاتا ہے۔ چونکہ یونانی فوج نے راجہ پورس کا مقابلہ انھی نیزوں سے کیا اس لیے اس مقام کا نام جہلم پڑ گیا۔ بعض روایات میں اس کا نام ’’جائے الم‘‘ بھی ہے یعنی پرچم کی جگہ۔

ایک اور روایت کے مطابق حضرت سعید بن ابی وقاصؓ جو سعد بن وقاصؓ کے بھائی تھے انھیں دیگر صحابہ کے ساتھ چین روانہ کیا گیا۔ راستے میں جہلم شہر کے سامنے پہنچے تو چاند پوری آب و تاب سے روشن تھا اس کی چاندنی میں انھوں نے شہر کا عکس دریا کے جھلملاتے پانی کی سفید چادر پر دیکھا تو بے ساختہ فرمایا ’’جلیلم‘‘ ان کے یہ الفاظ امر ہوگئے، لہٰذا شہر کو جہلم کہا جانے لگا۔

ہندوؤں کی سب سے قدیم وید جسے رگ وید کہا جاتا ہے اس میں جہلم کا تذکرہ موجود ہے۔ کہا جاتا ہے رگ وید کا کچھ حصہ جہلم میں لکھا گیا۔ اس کتاب میں جہلم کا نام ’’وتاسنتا‘‘ لکھا گیا ہے جس کو بعد میں ’’ذداستا‘‘ بھی کہا گیا۔

دارا اول ہندوستان میں آنے والا پہلا بادشاہ تھا اس کے بعد دارا ثانی اور پھر دارا ثالث برسر اقتدار آیا۔ دارا ثالث کے متعلق مشہور ہے کہ اس نے ’’وادی جہلم‘‘ کو سب سے پہلے فتح کیا۔ بعدازاں 327 قبل از مسیح میں سکندر ایران کو فتح کرنے کے بعد ہندوستان کی جانب بڑھا۔ پوٹھوہار کے حکمران راجہ امابی چن نے سکندر سے مصالحت کرلی یوں سکندر دریائے جہلم تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا، لیکن دریا کے پار کا غیور راجہ پورس سکندر سے پنجہ آزمائی کے لیے تیار کھڑا تھا۔ راجہ امابی چن نے سکندر کا ساتھ اس لیے دیا کہ وہ راجہ پورس سے اس کی دشمنی چلی آ رہی تھی۔

جنگ کا آغاز ہوا اس جنگ کو ’’معرکہ جہلم‘‘ یا جہلم کی جنگ‘‘ کہا جاتا ہے۔ جنگ کا آغاز ہوتے ہی سکندر نے بائیں طرف کھڑے لشکر پر حملہ کردیا جہاں راجہ پورس موجود تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے سکندر کا لشکر پورس کی فوج پر بھاری پڑ گیا اور اس کے ساتھ ساتھ راجہ پورس کے ہاتھیوں پر بھی حملہ کردیا۔ ہاتھی واپس مڑے اور اپنی ہی فوج اور ساتھیوں کو کچلنے لگے۔ پورس بری طرح زخمی ہوا، اسے میدان جنگ سے باہر جاتے دیکھ کر سکندر کی فوج اس کی طرف بھاگی اور اسے چاروں طرف سے گھیر لیا۔

پورس نے جو جواب سکندر کو دیا اس کو اچھا لگا اور سکندر نے پورس کو اپنا دوست بنا لیا۔ سکندر نے پورس کی سلطنت اسے واپس کردی اور وہاں دریا کے دونوں اطراف دو شہر آباد کیے۔ 326 قبل از مسیح میں سکندر جہلم سے روانہ ہوا۔

سلطان محمود غزنوی بھی جہلم آیا اس نے ’’ٹلہ جوگیاں‘‘ (ٹیلہ جوگیاں‘‘ سے جنگ کی بعدازاں سلطان شہاب الدین غوری نے جب ہندوستان پر چڑھائی کی تو اس جنگ میں بیس ہزار کھوکھروں نے اس سے جنگ کی اور کھوکھروں نے شکست کھائی۔

جہلم کا موجودہ شہر ساڑھے چار سو سال قدیم ہے۔ دوسری نمک کی کان جو کھیوڑہ میں موجود ہے۔ کھیوڑہ کا قصبہ انگریزوں نے 1876 میں آباد کیا۔ دلچسپ واقعہ یہ ہے کہ 327 قبل از مسیح میں سکندر یہاں آیا اور اس کے گھوڑوں نے چمک چاٹا (چاٹنا شروع کیا) یوں کھیوڑہ کا نمک دریافت ہوا۔

جہلم کا محل وقوع کچھ اس طرح ہے کہ دریائے جہلم اور جرنیلی سڑک کے سنگم پر واقع ہے دریا کے دوسری طرف سرائے عالمگیر کا قصبہ ہے جہاں ملٹری کالج جہلم واقع ہے۔ جرنیلی سڑک دونوں آبادیوں سے گزرتی ہے۔ جہلم کی عوام فوج کی ملازمت کو ترجیح دیتے ہیں۔ 1849 میں برطانوی فوج پنجاب میں داخل ہوکر جہلم پر عملداری کی۔ برطانوی عہد میں جہلم میں وسیع پیمانے پر تبدیلیاں کی گئیں۔ یہاں ایک بڑی چھاؤنی تعمیر کی گئی۔ 1872میں تاریکی ریلوے پل دریائے جہلم پر تعمیر کیا گیا اور مختلف گرجہ گھر بنائے۔

1971 کی جنگ جہلم کے لیے ایک دکھ بھرا واقعہ تھی، جہلم کے ہزاروں جوان مشرقی پاکستان کے حکمرانوں کی غلط حکمت عملی اور نااہلی کی وجہ سے شہید ہوگئے اور ہزاروں کی تعداد میں مقید ہوگئے۔ ان حکمرانوں کے غلط فیصلے اور ہندوستان کی یورش کی وجہ سے نہ صرف مشرقی پاکستان کو ہم نے علیحدہ کردیا بلکہ جہلم کو بھی غم گیر اور اشک بار کردیا۔ ماؤں کے بیٹے، بیویوں کے شوہر، بہنوں کے بھائی اور بچوں کے باپ ہمیشہ کے لیے ان سے دور ہوگئے۔ ان کے گھروں میں آویزاں ان کی تصاویر، دلوں میں ان کی یادیں ان کو اداس کرتی ہیں آج بھی یادوں کے چراغ روشن ہیں۔

جہلم کا رقبہ 3587 مربع کلو میٹر ہے، دریائے جہلم کوہ ہمالیہ میں چشمہ ودی ناک تلے نکل کر سری نگر کی ڈل جھیل سے پانی لیتا ہوا داخل ہوتا ہے اور جنوب مغرب میں دریائے چناب سے مل جاتا ہے۔ یہ مغربی پنجاب کے دریاؤں میں سے اہم دریا ہے۔ یہ سارے دریا پنج ہیڈ کے قریب دریائے سندھ میں جا ملتے ہیں۔ قصور کے مقام پر دریائے سندھ سے نہر لوئر جہلم نکالی گئی ہے جو ضلع شاہ پور کو سیراب کرتی ہے۔ قصور کی مین بجلی کا منصوبہ اسی کی مرہون منت ہے۔ نہرا پر جہلم منگلا، آزاد کشمیر کے مقام سے نکالی گئی ہے اور ’’ضلع گجرات‘‘ کے بعض علاقوں کو سیراب کرتی ہے۔ آب پاشی کے علاوہ آزاد کشمیر میں لکڑی کی برآمد کا سب سے بڑا اور آسان ذریعہ دریا ہے۔

جہلم شہر میں مشہور تاریخی مقام ’’قلعہ روہتاس‘‘ موجود ہے اس کی بنیاد 15 مئی 1541 کو شیرشاہ سوری نے رکھی۔ یہ قلعہ اس وقت شیرشاہ سوری نے گھگھروں پر نظر رکھنے کے لیے بنوایا تھا۔ اس کے علاوہ سکھوں کا مشہور گوردوارہ قلعہ روہتاس کے دامن میں موجود ہے یہ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے تعمیر کروایا۔ ’’ٹیلہ جوگیاں‘‘ کے بارے میں کہا جاتا ہے یہاں جوگیوں کا بسیرا ہوا کرتا تھا اور ہر سال یہاں بڑی دھوم دھام سے شیوو کی یاد میں میلا منعقد کیا جاتا تھا۔ سکھ مذہب کے بانی بابا گرونانک صاحب نے بھی چند ایام ’’ٹیلہ جوگیاں‘‘ میں گزارے اس سے منسوب ایک گبند آج تک موجود ہے۔

کلا کا مطلب پہاڑی ہے ’’کلا منگلا‘‘ ایک دیوی کے نام سے منسوب ہے، اس دیوی کا ذکر مہا بھارت میں منگلا دے وی راجہ پورس کی بیٹی تھی۔ باپ اور بھائی کی موت کے بعد اس نے پہاڑی کو ہی اپنا مسکن بنا لیا۔ اپنے باپ کو یاد کرکے درد بھرے گیت گایا کرتی۔ لوگ دور دراز سے اس کے درد بھرے گیت سننے آیا کرتے، لوگ خصوصاً اس کے درشن کرنے آیا کرتے اور اس سے اپنی مرادیں مانگتے۔ اس کی موت کے بعد وہاں اس کا بت رکھا گیا اور اس کی پوجا کی جاتی رہی، اس کی پوجا پاٹ کرنے والوں کو سَنت کہا جاتا ہے۔

جہلم کی مشہور شخصیات جن میں مختلف اولیا کرام، شہدا، سیاستدان، تاریخ دان اور شعرا شامل ہیں۔ حضرت بابا پیر سلیمان پارس کا مزار دریائے جہلم کے کنارے ہے کہا جاتا ہے آپ نے حضرت سعید بن ابی وقاصؓ جو سعد بن ابی وقاصؓ کے بھائی تھے ان کے ہاتھوں پر اسلام قبول کیا۔ خاندانی نسبت سے سلیمان پورس بعد میں سلیمان پارس کہلائے۔

چوہدری الطاف حسین (مرحوم) جو سابق گورنر پنجاب رہ چکے ہیں، راجہ محمد افضل خان (مرحوم)، راجہ اقبال مہدی (مرحوم) اور چوہدری فواد حسین کا تعلق بھی جہلم سے ہے۔ اس کے علاوہ سید ضمیر جعفری، حسین، یاسمین سحر، انجم سلطان شہباز کا تعلق بھی جہلم ہی سے ہے۔

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button