جہلماہم خبریں

شیخ حفیظ کو اس لئے نکالا گیا کہ انہوں نے آئی ایم ایف سے مہنگے قرضے لئے۔ اشرف چغتائی

جہلم: حفیظ شیخ سینٹ میں شکست کے بعدانتہائی دل برداشتہ اورزخم خوردہ ہوگئے تھے اورباوجودوزیر اعظم کی ان کے منصب پر برقراررہنے کی یقین دہانی کے بعدان کواپنامستقبل تاریک نظرآرہاتھا اوراس وقت وہ اقتدارکی ننگی تلوارپرننگے پاؤں چل رہے تھے۔

ان خیالات کا اظہار پاکستان پیپلز پارٹی کے سنئیر راہنما اشرف چغتائی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ شیخ حفیظ کو اس لئے نکالا گیا کہ انہوں نے آئی ایم ایف سے مہنگے قرضے لئے۔ اور ملکی معیشت کو تباہ کیا اور حکومت نے بجاے قانون سازی کہ ایک آرڈینس جاری کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس مجوزہ قانون کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان ترمیمی ایکٹ2021 کانام دیا گیا ہے اوراس کی منظوری وفاقی کابینہ نے9مارچ کودی تھی۔یہ مسودہ قانون ملک میں بہت سارے مالی اورمعاشی مسائل کاموجب توبنے گاہی بلکہ اس کے نتیجے میں ملکی اہم ادارے اورحساس تنصیبات بھی محفوظ نہیں رہ سکیں گے اورملک معاشی بدحالی کی وجہ سے سماجی انتشارمیں بھی مبتلاہوجائے گا۔

اشرف چغتائی نے کہا کہ اگر ان قوانین کابغور مطالعہ کریں تو پاکستان کی خودمختاری کوگروی رکھ دیاگیاہے۔مالیاتی امورحکومت کے کنٹرول سے نکل جائیں گے۔ اس لئے آئی ایم ایف نے عجلت میں اس قانون کو حکومت سے منظورکروانے کے لئے کہا۔

اشرف چغتائی نے کہا کہ وفاقی کابینہ میں تبادلوں سے ملکی معیشت، مہنگائی اور بیروز گاری ختم نہیں ہو گی، جب تک حکومت سنجیدگی سے اپوزیشن کو اعتماد میں لے کر کوئی عوامی مثبت پالیسی نہیں اپنائی اور اس میں مزید تاخیر کی گئی تو ملک کی معیشت مزید تباہی کی طرف جائے گا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button