تارکین وطن

17 سالہ لڑکی کو بدکاری کے دھندے پر مجبور کرنے والوں کو قید کی سزا

دبئی میں 17 سالہ پاکستانی لڑکی کو بدکاری کے دھندے پر مجبور کرنے والوں کو قید کی سزا سنادی گئی۔

سرکاری خبر رساں اداے کے مطابق ایک خاتون سمیت 3 ایشیائی باشندوں کو انسانی اسمگلنگ اور نوعمر لڑکی کو جسم فروشی کے کام پر مجبور کرنے کے الزام میں 3 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ ایک اور خاتون کو طوائف کے طور پر کام کرنے اور پولیس کو واقعہ کی اطلاع دینے میں ناکامی پر بھی سزا سنائی ہے، اس پر 5 ہزار درہم جرمانہ عائد کیا گیا اور اسے 6 ماہ قید کی سزا سنائی گئی، سزا پوری ہونے کے بعد ملزمان کو ملک بدر کر دیا جائے گیا۔

پولیس تفتیش کے مطابق ایک ملزمہ خاتون 17 سالہ پاکستانی لڑکی کو کپڑے کی دکان میں سیلز وومن کی نوکری کا وعدہ کرنے کے بعد دبئی لائی لیکن جب وہ دبئی پہنچی تو نوعمر لڑکی کو البرشا کے علاقے میں ایک اپارٹمنٹ میں لے جایا گیا، جہاں اسے ایک طوائف کے طور پر کام کرنے پر مجبور کیا گیا، اس اپارٹمنٹ میں لڑکی کو دبئی آنے پر راضی کرنے والی عورت اور ایک مرد جسم فروشی کا دھندہ چلا رہے تھے۔

17 سالہ لڑکی نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ اس کو ہوٹل کے ایک کمرے میں بھی بھیجا گیا جہاں گاہکوں کو اس کے پاس لایا گیا، 2 آدمی جو مذکورہ ہوٹل میں جسم فروشی کا دھندہ کرتے تھے وہ اسے فی رات 1 ہزار درہم ادا کرتے تھے جس کے بعد ایک پولیس اہلکار نے ملزمان کے بارے میں خفیہ طور پر بطور کسٹمر جا کر معلومات حاصل کیں اور دونوں مرد ملزمان کو ہوٹل سے گرفتار کرلیا گیا جب کہ خاتون کو البرشہ اپارٹمنٹ میں پکڑا گیا۔

بتایا گیا ہے کہ تینوں ملزمان نے نوعمروں کی اسمگلنگ اور بدکاری کا دھندہ چلانے سے انکار کیا لیکن انہیں مجرم ٹھہرایا گیا اور 3 سال قید کی سزا سنائی گئی جس کے بعد انہیں جلاوطنی کردیا جائے گا جب کہ خاتون مدعا کو طوائف کے طور پر کام کرنے پر مزید 6 ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button