جہلم

بڑی عیدکی آمد اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث گداگروں نے بھی بھیک مانگنے کے نرخوں میں اضافہ کر لیا

جہلم: شہر میں بڑی عیدکی آمد اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث گداگروں نے بھی بھیک مانگنے کے نرخوں میں اضافہ کر لیا، سکے کی جگہ کرنسی نوٹ کا مطالبہ کیا جانے لگا ، پولیس گداگری ایکٹ کے نفاذ کے باوجود شہر سے یہ لعنت ختم کرنے میں ناکام ، ہر طرف بھکاریوں کے جتھے دکھائی دینے لگے۔

شہر کے گنجان آباد علاقے بھکاریوں کی چھاونیوں میں تبدیل۔ بھیک مانگنے والوں کے درجن سے زائد گروہ اپنی پیشہ وارانہ سرگرمیوں میں متحرک ،متعددبھکارن عورتوں نے زیادہ بھیک لینے کے لیے معصوم بچے کرائے پر حاصل کرلیے ، گھروں اور دکانوں میں گھس کر قیمتی چیزیں چوری کرنے والے بعض جرائم پیشہ عورتوں نے بھی بھکارنوں کا روپ دھار لیا۔تمام گداگر شہر کے گلی محلوں میں کالونیوں کی طرح جھگیاں بناکر اکٹھے رہتے ہیں۔ ہر سال عید کے دنوں کے دوران بھکاریوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوجاتا ہے جو پولیس انتظامیہ کی غفلت اور نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

ہر سال کی طرح اس سال بھی بھکاریوں کی بہت بڑی تعداد جہلم شہرو گردونواح میں پھیلنا شروع ہوگئی ، یوں تو عام دنوں میں بھی گلی محلوں کے علاوہ ہر چوراہے پر گداگر مانگتے دکھائی دیتے ہیں جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہوتے ہیں بالخصوص عید کے دنوں میں ان بھکاریوں کی تعداد میں دوگناسے بھی اضافہ ہو جاتا ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button