ہارڈ کینڈی اور ہمارے بچے

تحریر: سندس سیدہ

0

آپکو تو یاد ہی ہوگا 1999 میں مشرف دورِ حکومت کے دوران جاوید اقبال نامی شخص کا لاہور میں سو بچوں کو تیزاب سے جلا کر مار ڈالنے کا واقعہ سامنے آیا تھا اور تو اور کسی کو کانوں کان معلوم نہ ہو سکا کہ کیسے اس نے بچوں کو جال میں پھنسانے کے لیے ویڈیو گیم سنٹر بنا رکھا اس وقت کی رپورٹس کے مطابق جہاں وہ جنسی تشدد کر کے انکی لاشوں کو تیزاب میں جلا دیا کرتا اور ویڈیوز بیچ دیتا۔ جرم کا اعتراف کرنے کے بعد بھی قانون شاید وہ انصاف نہ کر پاتا جو قدرت نے کیا اور پھر ایک روز وہ جیل میں مردہ پایا گیا۔

کتنا آسان ہے نا کہ تفتیشی ادارے کسی اصل مجرم تک پہنچ ہی نہ پائے اور وہ کیس خدا جانے کتنی فائلوں کے نیچے دب گیا۔ جنسی اسکینڈل کے حوالے سے پاکستان کی تاریخ کا دوسرا اہم واقعہ قصور کا ہے جسے شاید کوئی بھی درد دل رکھنے والا شخص نہیں بھلا سکتا ہے، بظاہر تو لگتا ہے کہ پولیس اس کیس کی تفتیش میں مکمل ناکام رہی ہے جب کہ اس کیس کے حوالے سے ملزمان کا طاقتور سیاسی سپورٹ بھی ملتی رہی۔

تفصیلات کے مطابق 2006 سے 2015 تک 300 بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کیا گیا اور انکی ویڈیوز فروخت ہوئیں اور ہم قدرت کی بے آواز لاٹھی کا انتظار کرتے رہے کیونکہ قانون تو اندھا ہے اسے ثبوت چاہیے۔پھر پنجاب میں ہی ایک ننھی کلی زینب کا اغوا ہونا ، جنسی زیادتی کے بعد بیہیمانہ تشدد کے بعد اسکا قتل ہونا ایک دل دہلا دینو واقعہ تھا جو کہ اس ننھی کلی کے پڑوسی عمران نامی شخص نے کیا۔

اس واقعہ کے پیچھے کون تھا؟ کون ہے؟ کیا چل رہا ہے؟ اس حوالے سے ان دنوں بہت شور اٹھا اور پھر سب کچھ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔ بظاہر ایک مجرم اپنے انتقام کو پہنچا لیکن اصل مجرم پھر محفوظ رہے۔

ہم اتنے غلیظ لوگ ہیں جو ایک دوسرے سے گھن کھاتے ہیں لیکن اپنے اندر سے اٹھنے والی بد بو محسوس نہیں کرتے کہ ہمارا کردار کیا ہے ہماری ذمہ داری کیا ہے کیا ہم اب بھی اسی بات میں الجھے رہیں گے کہ کپڑے آدھے پہنے ہیں، برقعہ کیوں نہیں پہنا، نظریں نیچی رکھو اور اصل مجرم جو کھربوں کا کاروبار ہمارے بچوں کی عزت سے کھیل کر اور انکی جان لے کر چلا رہے ہیں انہیں باآسانی بھلا دیتے ہیں۔

ہر پاکستانی کے زہن میں ان واقعات کو لیکر کئی سوالات جنم لیتے ہیں ہر شخص اس ہی سوچ میں ڈوبا ہوا ہے کہ انصاف فراہم کرنے والے ادارے کہاں ہیں؟ کیا سینکڑوں اجڑے گھروں کی چیخوں سے انکے کان نہیں پھٹتے؟ کیا انکو خدا کا خوف نہیں ؟ کیا ہمارے سامنے ایسے بیشمار واقعے اور ایسے کئی لوگ بیشتر بار بے نقاب نہیں ہوئے جب کسی ہوٹل کے کمرے میں کیمرے لگے ہوتے تھے اور کبھی بلیک میل کر کے زیادتی کا نشانہ بننے کے بعد میڈیا کے سہارے انصاف کی تلاش کرتی لڑکیاں اور عورتیں تڑپتی رہیں۔

مگر ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ انصاف کرنے والے ادارے ہمیشہ کہیں اور مصروف رہے ہیں اور شاید ہمیشہ کہیں اور ہی مصروف رہیں گے۔

قصور میں بیٹھا عمران اور لاہور میں ویڈیو گیمز چلانے والا شخص ہو یا پنڈی میں بیٹھے عالمی منڈی میں فحاش ویڈیوز فروخت کرنے والے میاں بیوی تو سامنے آنے والے چند کردار ہیں۔مگر جن کے ساتھ ظلم ہوچکا انہیں انصاف کون فراہم کرے گا۔ ؟

مگر ٹھہرئیے قصہ کچھ اور ہے اور بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا جو مجرم عام پاکستانی کے سامنے پیش کیے جا رہے ہیں آیا سارا قصور انہی کا ہے؟ انہیں برابر سزا ملنی چاہیے لیکن جو پڑھے لکھے دماغ خصوصی سافٹ وئیر کے ذریعے ڈارک ویب تک پہنچ کر ایسے کام کر رہے ہیں ان تک کیسے پہنچنا ہے اس حوالے سے حکومت کا کردار کیا ہے اس بات کا جواب کون دے گا؟ ڈارک ویب کا دھندہ پاکستان میں کون سے ہاتھ چلا رہے ہیں یہ بلا آخر کیا ہے اس کے سدباب کے لئے کون سا ادارہ کام کرے گا۔

زینب کیس کے بعد ڈارک ویب سائیٹ کے نام سے پاکستانیوں کی بڑی تعداد کو آگاہی ملی ورنہ اس سے قبل اس حوالے سے شاذو نادر ہی کسی کو علم تھا۔ ڈارک ویب انٹرنیٹ کا وہ خاموش استعمال ہے جہاں تک پہنچنا عام لوگوں کے لیے تھوڑا مشکل ہے بلکہ ناممکن سمجھئیے۔ یہاں کھربوں کے غیر اخلاقی اور غیر قانونی کاروبار ہوتے ہیں، انسانی عضاء کی سمگلنگ سے لیکر بچوں کی فحش فلم سازی اور خطرناک حد تک کھیلی جانی والی نفسیاتی گیمز تک شامل ہے۔

جن تک رسائی کے لیے عموماً عام سرچنگ برائوزر استعمال نہیں ہوتے۔ ڈیپ ویب تک پہنچنا ہے تو (Tor) اور اس جیسے دیگر سافٹ ویئر استعمال ہوتے ہیں تاکہ خفیہ ایجنسیاں استعمال کرنے والے تک رسائی حاصل نہ کر پائیں یہ بھی حیرت کی بات ہے کہ یہ سافٹ وئیر بنائے بھی خفیہ ایجنسیوں نے ہی ہیں۔

ذرا غور کریں ہمارے آس پاس کیا نہیں ہو رہا۔ مختلف برائوزرز کے استعمال اور پراکسی لگا کر مختلف سافٹ وئیر کے ذریعے فحش فلمیں دیکھنے سے لے کر اب یہ کام فحش فلمیں بنا کر بیچنے تک پہنچ چکا ہے، معاشرے میں لوگوں سے اعتبار اس حد تک اٹھتا جا رہا ہے کہ کچھ معلوم نہیں آپکے ساتھ بیٹھا شخص ہی آپکے قتل یا اغوا کے لیے انٹرنیٹ سے خرید لیا گیا ہو اور آپکو معلوم ہی نہ ہو۔

ہم کبھی مذاق میں کہتے ہیں کہ گوگل کو سب سوالوں کا جواب معلوم ہے لیکن ایسی ویب سائیٹ چند ہی ہیں جن کے بارے میں گوگل ہمیں معلومات دیتا ہے وہ سائیٹ گوگل سے بھی چھپی ہوئی ہیں لیکن ایسا بھی ہوا ہے کہ سیکیورٹی ایجنسیاں ایسی ویب سائٹس اور ان کو چلانے یا استعمال کرنے والوں تک پہنچنے میں کامیاب رہی ہیں جیسے کہ منشیات کے کاروبار کی سائیٹ “سلک روڈ” کو چلانے والے کی گرفتاری، چند چھوٹے گروہ جو بچوں سے جنسی تشدد کی ویب سائٹ چلاتے تھے انکی گرفتاری۔

یہ ڈارک ویب جو امیر کا شوق اور غریب کا لالچ ہے جس نے سینکڑوں گھر اجاڑ دئیے اسکے حوالے سے حکومت وقت کیا کر رہی ہے اس حوالے سے کوئی بھی مثبت معلومات یہاں مل رہیں اور شاید اس ہی وجہ سے بچوان کے ساتھ زیادتی کے واقعات ایک بار پھر سے شروع ہوچکے ہیں۔

ایک مرتبہ پھر سے قصور کے بچے اغوا کر کے قتل کر دئیے، لیکن قانون کے کان پر جوں تک نہیں رینگی، مجرم ثبوت اور گواہ مٹاتا چلا جا رہا ہے اور ہم بیٹھے تشدد زدہ لاشوں پر ماتم کر رہے ہیں اور انتظار کر رہے ہیں یا شاید کوئی ہمارا اپنا شکار ہوگا تب ہی ہم کوئی قدم اٹھائیں گے۔

عوام کو کیا کرنا چاہیے کیا پولیس اور قانون پر بھروسہ رکھیں تب تک جب تک ہمارا کوئی اس بھوک کا شکار نہیں ہو جاتا یا پھر یہ کام بھی عسکری اداروں کے حوالے کرنا پڑے گا ؟ یا پھر شک کی بنیاد پر ایک دوسرے کے سر قلم کرنے کی نوبت آنے والی ہے۔

میں نہیں چاہتی کہ کسی ایسے مجرم کی موت یا پھانسی ہو جس کے پیچھے پورا کاروبار چل رہا ہے جو ایک شخص کے سزا دیے جانے سے بند نہیں ہوگا۔ مجھے اصل مجرم تک پہنچنا ہے اور انصاف اس سے چاہئے جو زمین پر خدا کے نائب ہیں نہ کہ میان خدا کی لاٹھی کا انتظار کروں کہ کب ان ظالموں پر برسے گی۔

پورن فلمیں دیکھنے والے اپنے گریبان میں جھانکیں تو انکو اندازہ ہوگا کہ ان ہی ویڈیوز میں کئی ایسے چہرے ہوں گے جن کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کر دیا جاتا ہوگا۔ پورن دیکھنے والے اگر اپنے ضمیر کو جھنجھوڑیں تو انکو ہر پورن فلم میں ایک قصور کا بچہ نظر آئے گا۔ مانا کہ پورن انڈسٹری کی بات کریں تو کئی سوالات جنم لیتے ہیں کہ مارکیٹ ڈیمانڈ کیا ہے؟ اسکو دیکھنے والے کون ہیں؟ چلانے والے کون ہیں؟ اسکے ذریعے کاروبار کرنے والے کون ہیں؟ کیا ہمارے اردگرد ہی موجود نہیں ہیں؟ کیا ہم ہی قصوروار نہیں ہیں؟ بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کرنے کی فلمیں مقبول ہیں کیسے ذہنی مریض ہیں نا ہم لوگ؟ کتنے منافق ہیں۔

اسی انٹرنیٹ کی دنیا میں ’’ہارڈ کینڈی‘‘ کے نام سے ایک انسائیکلوپیڈیا ہے جہاں بچوں پر پورنو گرافی سے متعلق معلومات ویڈیوز وغیرہ ہیں اس پر فلم بھی موجود ہے اور مختلف انگریزی کتب بھی اس موضوع پر لکھی جا چکی ہیں۔ ایسی فلمیں جن میں بچوں پر تشدد کر کے فحش فلمیں بنائی جاتی ہیں ان کو ڈارک ویب کی اصطلاح میں’’ہارٹ کور‘‘ کہتے ہیں۔ بھارت دنیا میں ریپ کیپٹل کہلایا ہے، اور ہم تو ان سے بھی گر گئے، ہمارے ہاں تو بچے تک محفوظ نہیں ہیں۔

سماجی ادارے ساحل کی تحقیق کے مطابق 2016 میں 4139 بچے بچیاں جنسی تشدد کی کسی نہ کسی شکل کا نشانہ بنے۔ ان میں 2410 بچیاں تھیں اور 1729 لڑکے۔ جنوری سے جون 2017 تک بچے بچیوں پر جنسی تشدد کے 1764 واقعات رونما ہوئے۔ سب سے زیادہ یعنی 1089 (62 فیصد) صوبہ پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کے بعد صوبہ سندھ میں 490، بلوچستان میں 76، وفاقی علاقے اسلام آباد میں 42، خیبرپختون خواہ میں 42 اور آزاد کشمیر میں 9 واقعات رپورٹ ہوئے۔ یاد رہے یہ وہ واقعات ہیں جو رپورٹ ہو رہے ہیں لیکن اغوا اور گمشدگی کے واقعات کے پیچھے بھی یہ ہی کہانی ہے اگر تو انکو شامل کر لیں تو یہ تعداد دگنی ہو جائے گی۔

ہم منافقوں کو اگر یہ ڈر ہو کہ کیا معلوم فحش فلمیں بنانے والا عالمی گروہ شاید میرے ساتھ والے گھر تک یا میرے گھر کے کسی فرد تک رسائی حاصل کر چکا ہو اور میرے گھر نہ جانے کب نقب لگا لے۔ یورپ اور امریکا کی بات کریں تو وہاں تو قانون کے رکھوالے عزت سے کھیلنے والوں اور جرائم پیشہ کے ساتھ نہیں ہوتے، لیکن یہاں تو ایسے مجرموں کو انکی پشت پناہی حاصل ہے ہم تو اپنے بچے کو یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ اگر کہیں گم ہو جاؤ تو پولیس جہاں نظر آئے اسکے پاس چلے جانا تم محفوظ ہو گے۔

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.