60 سال قبل تعمیر ہونے والی منگلا روڈ خستہ حالی کا شکار،درجنوں دیہات کا پانی روڈ کے اوپر، سروے رپورٹ

0

دینہ: 60 سال قبل تعمیر ہونے والی منگلا روڈ خستہ حالی کا شکار، منگلا روڈ سے روزانہ 12سے 14ہزار ٹریفک گزرتی ہے، درجنوں دیہات کا پانی روڈ پر، منگلا روڈ پر تجاوزات کی بھرمار، جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر، شہریوں کا گزرنا محال، محکمہ جنگلات کے درخت مناسب کانٹ چھانٹ نہ ہونے کی وجہ سے آئے روز حادثات معمول بن گئے۔

تفصیلات کے مطابق 60سال قبل منگلا ڈیم کی تعمیر کے لئے بنائے جانے والی روڈ آج انتہائی خستہ حالی کا شکار ہے، لاکھوں کی آبادی کا واحد راستہ منگلا روڈ جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے گزرنا محال ہو چکا ہے۔ مین چوک دینہ سے منگلا ڈیم تک 18کلو میٹر کا فاصلہ منٹوں کی بجائے گھنٹوں میں طے ہوتا ہے۔

ٹریفک پولیس کے مطابق اس وقت منگلا روڈ پر روزانہ 12سے 14ہزار گاڑیاں گزرتی ہیں۔ دفتری اوقات، سکولز ، کالجز اور کاروباری وقت پر منگلا روڈ سے پیدل چلنا بھی دشوار ہو جاتا ہے۔ تقریباً 15سال قبل اہلیٹ کلاس کیلئے منگلا روڈ نکودر چوک سے ایک بائی پاس جی ٹی روڈ روہتاس چوک تک ایک الطاف روڈ بنائی گئی لیکن اس روڈ کی طرف کسی نے توجہ نہ دی۔ منگلا ڈیم کی تعمیر کے وقت روڈ کو صرف دینہ سے منگلا تک محدود کیا گیاجس کو بعد میں میرپور آزاد کشمیر کے ساتھ ملا دیا گیا۔

میرپور کے علاقہ سینکڑوں دیہات اسی روڈ کے ذریعے پنجاب میں آتے جاتے ہیں اسی وجہ سے منگلا روڈ کو آزاد کشمیر گیٹ وے بھی بولا جاتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ منگلا روڈ کی اہمیت اور افادیت بڑھتی گئی جسے حاکم وقت نے مسلسل نظر انداز کیا۔

منگلا روڈ کے اطراف درجنوں سکولز، کالجز، ہسپتال اور کمرشل پلازوں کے علاوہ دو درجن سے زائد گاؤں، ہڈالی، ہڈالہ، نیو جھنگ، مدوکالس، چک عبدالخالق، نکودر، منارہ، لدھڑ، شیخوپور، افغان آباد، پنڈوڑی ، منگلاکینٹ، واپڈا کالونی، سندر کالونی وغیرہ آباد ہیں۔ اس کے علاوہ ایک درجن سے زائد لنک روڈ جس میں ڈھوک کھوکھر، خانہ بوکی، چک عبدالخالق، پیر بھچر، چھنی گجراں، ساگری، جلوچک، نئی آبادی، چک بٹالہ، کھٹانہ، بڑل، سناٹھ وغیرہ آبادی کی ہی واحد گزرگاہ ہے۔

منگلا روڈ پر تجاوزات کی بھرمارہونے کی وجہ سے روڈ تنگ ہو چکی ہے۔مرمت کے نام پر کبھی کبار روڈ کو بہتر کیا جاتا ہے، اس روڈ کے اطراف نکاسی آب کیلئے کوئی نالہ موجو دنہیں جس کی وجہ سے متعلقہ دیہاتوں کا پانی ہمہ وقت روڈ پر موجود رہتا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف روڈ ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہتی ہے جبکہ منگلا روڈ پر جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں جس سے راہگیروں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ روڈ کے اطراف محکمہ جنگلات کے درختوں کی مناسب کانٹ چھانٹ نہ ہونے کی وجہ سے آئے روز سنگین حادثات رونما ہو رہے ہیں۔

جوں جوں آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے اور لوگ اپنی ضروریات کے پیش نظر دوکانیں، گھر اور پلازے تعمیر کر رہے ہیں جن کی مناسب منصوبہ بندی اور شہری قوانین کے مطابق نقشہ منظور نہ ہونے کی وجہ سے سڑک کے حجم میں کمی واقع ہو رہی ہے اور مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مقامی لوگوں نے اس گھمبیر مسئلہ کے حل کیلئے اعلیٰ حکام سے دوطرفہ روڈ بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.