محکمہ جنگلات کے شاطربلاک افسر نے جلالپورشریف کے غریب مزدور کے 20 ہزار ڈکار گیا

0

جلالپورشریف کا محنت کش محکمہ فاریسٹ کے خلاف سراپا احتجاج، شاطربلاک افسر نے غریب مزدور کے 20 ہزار ڈکار لئے، محنت کش اپنی آواز ارباب تک پہنچانے کیلئے پریس کلب پہنچ گیا، ڈپٹی کمشنر جہلم، ڈسٹرکٹ فاریسٹ آفیسر جہلم سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔

تفصیلات کے مطابق جلالپورشریف کے رہائشی محنت کش ، فضل حسین ولد راجولی نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ محکمہ فاریسٹ کے بلاک افسر نے 10ہزار روپے ماہوارپر ملازم بھرتی کیا اور 5 ماہ محنت مزدوری کروائی مگر تنخواہ دینے سے گریز کرنے لگا، فضل حسین نے بتایا کہ محکمہ جنگلات کے بلاک افسرنے مجھے 10 ہزارماہوار تنخواہ (ڈیلی ویجز) پر بھرتی کیا اس طرح 5 ماہ میں نے محکمہ جنگلات کے بلاک آفیسر کے زیر سایہ کام کیا 5 ماہ کام کرنے کے بعد مجھے بلاک افسر بابر نے نوکری سے فارغ کر دیا، اور مجھے حق حلال کی محنت کی اجرت دینے سے انکاری ہو گیا۔

متاثرہ شخص نے کہا کہ میرے بار بار بلاک افسرسے رجوع کرنے پر مجھے 5 5/ ہزار کرکے 30 ہزار روپے دیئے اب میری بقایا رقم 20 ہزار ہے مگر بلاک افسر بابر مجھے میری بقایا رقم ادا کرنے سے کترارہا ہے ، قابل زکر بات یہ ہے کہ چند ماہ قبل جلالپور شریف محکمہ ہائی وے کے بنگلہ میں ڈی پی او اور ڈپٹی کمشنر نے کھلی کچہری کا انعقاد کیا اور میں نے بھی شرکت کی کہ میں اپنا مسئلہ بیان کر سکوں ۔

انہوں نے بتایا کہ جب میں اپنا مسئلہ پیش کرنے لگا تو بلاک افسر بابر کی نظر مجھ پر پڑی تو اس نے مجھے کہا کہ تم زرا باہر آؤ مجھے کھلی کچہری سے وہ باہر لے گیا اور منت سماجت کرنے لگا، کہ جو ںہی کھلی کچہری ختم ہوتی ہے میں تجھے بقایا کی رقم مبلغ 20 ہزار روپے ادا کر دونگا،اب تم کھلی کچہری میں افسران کے پاس پیش نہ ہونا میں اس بلاک افسرکی باتوں میں آگیا اور اب کھلی کچہری کو گزرے کئی ماہ ہو گئے ہیں مگر محکمہ فاریسٹ کے بلاک افسرنے مجھے میری بقایا رقم ادا کرنے کی بجائے ٹرخانہ شروع کر رکھا ہے۔

متاثرہ محنت کش نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر جہلم ، ڈویژنل فاریسٹ آفیسر میری تنخواہ کے بقایا جات دلوائیں تاکہ میں اپنے بچوں کو 2 وقت کی روٹی مہیا کر سکوں ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.