جہلم

مرکز اور پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت، لیگی بلدیاتی نمائندوں کی راتوں کی نیندیں حرام ہو گئیں

جہلم: 25 جولائی کو مرکز اور صوبوں میں پی ٹی آئی نے بھاری اکثریت حاصل کی تو بلدیاتی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر کامیاب ہونے والے شیروں کی راتوں کی نیندیں حرام ہو چکی ہیں ، اکثر یونین کونسلوں اور میونسپل کمیٹی کے دفتروں میں چیئرمینوں ، وائس چیئرمینوں کی کرسیاں خالی پائی جاتی ہیں جبکہ کونسلروں نے بھی عرصہ ہواان دفاتر کا رخ کرنا چھوڑ دیا ہے۔

چیئرمین اپنی کرسیاں دیکھتے ہیں تو ان کی آنکھیں بھرآتی ہیں اور دل ہی دل میں کہتے ہیں حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے ، جب سے چوہدری پرویز الہٰی نے بلدیاتی نظام لپٹنے کا اشارہ دیا ہے ، (ن) کے ٹکٹوں پر کامیاب ہونے والے بلدیاتی نمائندوں کے چہروں پر ہوائیاں اڑ ی ہوئیں ہیں گوکہ ان دنوں بلدیاتی ادارے نئے مالی سال کا بجٹ پیش کر رہے ہیں ، لیکن اس بجٹ میں مختص ہونے والے ترقیاتی فنڈز شاید ہی موجودہ بلدیاتی نمائندے استعما ل کر پائیں گے۔

شنید ہے کہ پنجاب حکومت کی تشکیل کے فوراً بعد بلدیاتی نظام لپیٹ کر نئے بلدیاتی نظام کی قانون سازی کی جائے گی اور اس قانون سازی کے بعد نئے نظام کے تحت بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں گے، ایک تجویز یہ بھی زیر غور ہے کہ بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر کرائے جائیں جبکہ کچھ سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کراکر جو بھی کامیابی حاصل کرے اسے ذمہ داریاں سونپ دی جائیں تاکہ گراس روٹ لیول پر ترقیاتی کاموں کا آغاز ہو سکے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button