جہلماہم خبریں

جہلم میں مذہبی اسکالرانجینئر محمد علی مرزا پر قاتلانہ حملہ، پولیس نے حملہ آور کو گرفتار کر لیا

جہلم میں معروف مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا قاتلانہ حملے میں زخمی ہوگئے، پولیس نے حملہ آور کو گرفتار کرلیا۔

پولیس کے مطابق محمد علی مرزا پر حملہ اتوار 14 مارچ کو کیا گیا تھا۔ معروف اسکالر معمول کے مطابق اپنی ریسرچ اکیڈمی میں تدریس کے لیے موجود تھے کہ اسی اثنا میں نامعلوم حملہ آور ان کی جانب لپکا اور چاقو سے ان کے گردن کی جانب وار کیا تاہم بروقت خود کو بچاتے ہوئے چاقو ان کے بازو میں پیوست ہوگیا۔

درس میں موجود افراد نے حملہ آور کو فوری قابو کرلیا اور پولیس کو اطلاع دی۔ ملزم کی شناخت شہزاد علی ولد خوشی محمد ساکن کے نام سے کی گئی ہے، جو لاہور کا رہائشی ہے۔ پولیس نے ملزم کو حراست میں لے کرتفتیش شروع کردی۔ حملے کے بعد محمد علی مرزا کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

واقعہ کا مقدمہ تھانہ سٹی میں محمد علی مرزا کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔ درج ایف آئی آر میں محمد علی مرزا کا کہنا تھا کہ وہ ہر اتوار کو اپنی ریسرچ اکیڈمی میں درس دیتے ہیں اور بروز اتوار 14 مارچ کو بھی معمول کے مطابق درس و تدریس میں مصروف تھے کہ ایک شخص نے ان پر حملہ کردیا۔

درج مقدمے میں محمد علی مرزا کی جانب سے اس بات کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملزم ان کو قتل کرنے کی غرض سے آیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم سے تفتیش جاری ہے۔

واضح رہے کہ وہ جہلم میں ایک ریسرچ اکیڈمی چلاتے ہیں جہاں وہ دینی تعلیم دیتے ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے وہ مکینیکل انجینئر ہیں۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال 2020 مئی میں جہلم پولیس نے انجینئر محمد علی مرزا کو مذہبی منافرت اور مختلف علمائے کرام کے خلاف تنقید کے الزام میں گرفتار کرکے مقدمہ درج کیا تھا تاہم انہوں نے عدالت سے اپنی ضمانت منظور کرالی تھی۔ انہیں سول کورٹ کی جانب سے 50 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت دی گئی تھی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button