بیرون ملک شادی کر کے جانے والے نوجوان سمیت اس کی فیملی کو قتل کی دھمکیاں معمول بن گیا

1

دینہ: بیرون ملک شادی کر کے جانے والے نوجوان سمیت اس کی فیملی کو قتل کی دھمکیاں معمول بن گیا ،بیرون ملک شادی کر کے جانے والے نوجوانوں کے ساتھ زیادتیوں کا سلسلہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے ،دینہ کے نواحی علاقہ بوڑھیاں کھٹا نہ کے رہائشی نوجوان مدثر ریاض کی تین سال قبل برطانوی نژاد لڑکی سے شادی ہوئی جو کہ پاکستان میں جہلم کی بااثر رہائشی فیملی ہے ،برطانیہ میں موجود نوجوان کو ذہنی اور جسمانی ٹارچر کرنے لگے ۔برطانیہ میں اس کے خلاف جھوٹا مقدمہ بنا کر اس کو پھنسایا گیا اب پاکستان میں بھی اس کی فیملی کو قتل کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق تحصیل دینہ کی یونین کونسل مغل آباد کے علاقہ بوڑھیاں کھٹانہ کے رہائشی بزرگ شخصیت محمد ریاض نے میڈیا کو بتایا کہ میں ایک غریب آدمی ہوں ۔تین سال قبل میرا خوبصورت نوجوان بیٹا مدثر ریاض کی شادی برطانیہ پلٹ لڑکی سے ہوئی جس کا تعلق پاکستان میں جہلم سے ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہمیں کیا خبر تھی کہ یہ امیر لوگ پاکستانی غریب خوبصورت لڑکوں کو شادی کے جھانسے میں پھنسا کر برطانیہ میں اپنے مفاد کے لیے استعمال کرتے ہیں ،وہاں نوجوانوں پر تشدد کیا جاتا ہے اور انہیں اپنے زیر سایہ غلام بنا کر رکھا جاتا ہے ۔میرے بیٹے کے برطانیہ پہنچتے ہی انہوں نے اس سے پاسپورٹ اور کاغذات لے لیے اور اس سے مطالبہ کیا کہ اپنی بیوی کے نام مکان خریدے جس نے دن رات محنت کرنے کے بعد ہزاروں پاؤنڈ مالیت کا مکان خرید کر بیوی کے نام کیا ۔اس کے بعد انہوں نے میرے بیٹے مدثر کو اپنے مکان سے باہر نکال دیا ۔

انہوں نے بتایا کہ میرا بیٹا وہاں اکیلا ہے اس نے دلبرداشتہ ہو کر نیند کی گولیاں کھا کر زندگی کا خاتمہ کرنا چاہا ،وہاں موجود لالچی خاندان نے میرے بیٹے کا ویزہ کینسل کرا دیا مگر وہاں کہ ایک سوشل ویلفیئر ادارے نے اسے دوبارہ کوشش کر کے ویزہ دلوا دیا ۔اب وہاں پر میرے بیٹے کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ تمیں پاکستان بھجوا کر وہاں قتل کروا دیں گے ۔پاکستان میں ہمارے گھر نامعلوم فون کالز کے ذریعے دھمکیاں دی جا رہی ہیں ۔

انہوں نے بتایا کہ میرے بیٹے کے سسرال والے کافی بااثر اور امیر لوگ ہیں ،میرے بیٹے کی ساس زبیدہ بیگم اور سالا محمد سلیم اور اس کی نو سالیاں اور ان کے خاوند سب مل کر میرے بیٹے کی زندگی کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں ۔قتل کے ڈر سے پاکستان میں موجود ہماری فیملی اور برطانیہ میں موجود میرے بیٹے مدثر ریاض شدید ذہنی اضطراب کا شکار ہیں ۔میرے بیٹے کے سسرالیوں کی کوشش ہے کہ پاکستان میں مدثر کو بجھوا کر اس کی زندگی کا خاتمہ کیا جائے ۔اگر میرے بیٹے یا ہمیں کوئی بھی نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ داری میرے بیٹے کے سابقہ سسرال والوں پر ہو گا ۔

  1. محمد وقاص کہتے ہیں

    جتنا کہ میں جانتا ہو مدثر اک بہت اچھا لڑکاہے اس کے ساتھ زیادتی ہو رھی ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.