جہلم

پٹواریوں کی لوٹ مار نے شہریوں کی زندگیاں اجیرن بنا دیں

جہلم: پٹواریوں کی لوٹ مار نے شہریوں کی زندگیاں اجیرن بنا دیں، معمولی سے معمولی جائز کام کو بھی کروانے کے لئے ایک لمبی سزا بھگتنا سائلین کے مقدر بنا دیا گیا۔
سروئے میں یہ معلوم ہوا ہے کہ سائلین ساراسارا دن ہاتھوں میں درخواستیں اور چہرے پر بے بسی کی تصویر سجائے مختلف پٹواریوں ان کے منشیوں کے پیچھے بھاگتے دکھائی دیتے ہیں کسی کے انتقال کا مسئلہ ہے تو کسی نے فرد ملکیت حاصل کرنا ہے کسی کے حق میں بیان دینا ہے یا کسی نے بیان دلوانا ہے۔
پیسے ہیں تو کام ہوگا ورنہ محکمہ مال کے پٹواری میٹنگ میں ہیں یا پھر نشاندہی کا کہہ کر سائلین سے جان چھڑوا لی جاتی ہے ۔ پٹواری کا کام پرائیویٹ منشیوں نے اپنے ذمہ لیکر پٹواریوں کو موجیں اور کمیشن سے جیبیں گرم کرنے کا نیا پہاڑا پڑھاکرایک نہیں دو پاکستان کو عملی جامہ پہنانا شروع کر رکھا ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ پیسوں کا لین دین بھی پٹواری انہی منشیوں کے ذریعے کرتے ہیں بغیر پیسوں کے سلام لینا بھی حرام سمجھنے والے ان منشیوں کے بارے میں اگر حقائق کا جائزہ لیا جائے تو ان میں بے شمارایسے منشی ہیں جو کل تک کسی سے ادھار مانگ کر اپنا گذارہ کرتے تھے مگر آج ان کے اثاثہ جات کسی بھی پیسہ والے شخص سے کہیں ز یادہ ہیں۔
موجودہ درجنوں پٹواریوں کا ماضی بھی اسی طرح کے واقعات سے بھرا ہوا ہے جس نے بہت کم وقت میں بطور ’’پٹواری‘‘ترقی کا سفر طے کیا ،جہاں انکو کئی بار معطلی جیسے مسائل کا بھی سامنا کر نا پڑا ، معطلی کے دوران بھی محکمہ مال کے پٹواری کام کرتے دکھائی دیتے ہیں ، جمع بندی کرنی ہو تو اس کا حل منشی کی پٹاری میں موجود کسی کا کھاتہ کہیں۔
اصل مالک کو خبر تک نہیں اور اس کی زمین کئی افراد کے ہاتھوں فروخت ہو چکی ہوتی ہے جمع بندی کی اکھاڑ پچھاڑ کے ماہرمنشی و پٹواری یہیں تک بس نہیں کرتے بلکہ اگر آپ کی جیب میں پیسے موجود ہیں تو آپ خسرہ گردواری کو بھی تبدیل کرواسکتے ہیں اس کے لیے کو ئی شر ط عائد نہیں کہ جمع بندی یا خسرہ گرداوری کب کی اور کس سال کی ہے رجسٹر میں اس انداز سے پرانے اوراق کی جگہ نئے لگا ئے جاتے ہیں کہ اصل بنا نے والا بھی شرمندہ ہو جا ئے ۔
یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پٹواریوں کو لکھ پتی بنا نے میں منشیوں کا بڑا اہم کردار ہے جوکسی کوبھی مالک کی بجائے زمین کا اصل مالک ظاہر کر دیتے ہیں اس عمل کو غیر ثابت کرنا کاغذات میں منشیوں کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے یہاں پٹواری اور ان کے منشی کے ڈسے ہوئے بیشمار ایسے لوگ محکمہ مال کے دفاتر کے دھکے کھا رہے ہوتے ہیں جنہوں نے پٹواریوں اور منشیوں کی خواہشات کا احترام نہیں کیا ہوتا۔
ایک متاثرہ شخص نے پٹواریوں اور منشیوں کے بارے ہوشربا انکشافات کرتے ہوئے بتا یا ہے کہ لوٹ مار کا بازار محکمہ مال کے پٹواریوں نے گرم کیا ہوا ہے کتنے ہی لوگوں کے ریکارڈ ز میں ردو بدل اور دوسرے غیر متعلقہ افراد کے نام اراضی منتقل کر دی جاتی ہے ان واقعات سے منشی کی قلم سے کو ئی غریب امیر محفوظ نہیں دکھائی دیتا اور لوگ خوف کی وجہ سے ان کے ساتھ بگاڑ پیدا نہیں کرتے مبادا کہیں ہماری زمین راتوں رات دریا کے اس پار کسی کے نام نہ ہو جا ئے۔
ریکارڈ کو ٹمپرنگ کرنے کے ماہر منشیوں کی اگر چھان بین کی جائے تو بڑے دلچسپ اور کارآمد انکشافات سامنے آ سکتے ہیں مگر المیہ یہ ہے کہ آج تک ایسا ہو ا نہیں اس بارے میں جب محکمہ مال کے ایک ذمہ دار سے دریافت کیا گیا کہ آخر آپ لوگوں نے پرائیویٹ منشی کیوں رکھے ہو ئے ہیں تو انہوں نے بڑی معصومیت سے بتایاکہ ہم سے یہ کا م اب نہیں ہوتا دلچسپ بات یہ ہے کہ پٹواری ان منشیوں کو تنخواہ کے نام پر اونٹ کے منہ میں زیرہ والی بات کے مصداق کچھ بھی نہیں دیتے یعنی خود بھی کماؤ اور ہمیں بھی دو ۔
ایک اندازے کے مطابق ضلع جہلم میں پٹواریوں اورمنشیوں کی الگ الگ فیسیں مقرر ہیں جو منشی کماؤ پت ہے اس کا حصہ اور ہے جو صرف ڈنگ ٹپاؤ پالیسی پر گامزن ہیں ایسے منشیوں کو پٹواری اپنے اوپر بوجھ سمجھتے ہیں۔
متاثرہ افراد نے میڈیا کی وساطت سے ضلع کے متعلقہ ارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ چاہیں اور اپنی انتہائی مصروفیات میں سے ان معاملات کیلئے بھی وقت نکال لیں تو اس ضلع کے ہزاروں بے یارو مددگار لوگوں پر احسان عظیم ہو گا ان کا نام تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا محکمانہ کاروائیاں اور انکوائری کروائیں باقی مسئلے خود بخود سامنے آتے جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button