پی ایم ڈی سی کھیوڑہ کی انتظامیہ نے بغیر تفتیش کے شہریوں کے خلاف ایف آئی آر درج کروا دی

0

کھیوڑہ: پی ایم ڈی سی انتظامیہ نے بغیر تفتیش کے شہریوں کے خلاف ایف آئی آر درج کروا دی، پی ایم ڈی سی انتظامیہ نے پہلی درخواست میں تقریبا پانچ سال پہلے مرنے والے شہری کو ملزم نامزد کیا اور دوسری درخواست میں مرنے والے شہری کے بیٹے کے نام ایف آئی آر درج کروا دی جو کھیوڑہ کے شہریوں کے ساتھ سراسر زیادتی ہے، یہ واقع پی ایم ڈی سی کے ناقص سیکورٹی انتظامات کی وجہ سے پیش آیا مقامی پولیس کو تقریبا تین چار دن کے بعد اس واقع سے آگاہ کیا گیا اور جائے وقوعہ سے تمام نشانات بھی ختم کر دئیے گئے تاکہ پولیس کو کسی قسم کے ثبوت نہ مل سکیں۔

تفصیلات کے مطابق کھیوڑہ پی ایم ڈی سی کیش آفس میں ڈکیتی کی ناکام کوشش کی گئی اس واقع کے بعدپی ایم ڈی سی انتظامیہ کے سیکورٹی کے ناقص انتظامات سیکورٹی افسران کو علم ہونے کے باوجود کہ کیش آفس میں پی ایم ڈی سی انتظامیہ نے بھاری کیش رکھی ہے کیش آفس کے سیکورٹی انتظامات سخت نہ کرنا اور سیکورٹی معاملات میں عدم دلچسپی پی ایم ڈی سی انتظامیہ کے سیکورٹی انتظامات پر سوالیہ نشان ہے کیش آفس اور بیئرر میں چند فٹ کا فاصلہ ہے۔

رات کی تاریکی میں بیئرر پر سیکورٹی اہلکار ڈیوٹی پر حاضر ہوتے ہیں اس ایریے میں رات کی تاریکی میں اتنا سناٹا ہوتا ہے کہ پیدل چلنے والے لوگوں کے قدموں کی آواز بھی واضح سنائی دیتی ہے مگر افسوس ان سیکورٹی اہلکاروں پر جو ڈیوٹی دے رہے تھے چند قدم کے فاصلے پر ڈاکووں نے کیش آفس کی چھت کی توڑ پھوڑ کی کیش آفس کے اندر داخل ہوئے کیش لاکر کو توڑنے کی ناکام کوشش کی گئی پھر کیش آفس اور مائن منیجر آفس کی دیواریں توڑی گئیں مگر افسوس کہ سیکورٹی اہلکاروںکے کانوں میں جوں تک نہ رینگی مگر پی ایم ڈی سی انتظامیہ نے بغیر تفتیش کیےدس شہریوں کے نام لکھ کر پولیس کو ایف آئی آر درج کرنے کے لیے درخواست دے دی۔

جب کچھ شہریوں کے لواحقین نے قرآن پاک اٹھا کر پی ایم ڈی سی سالٹ مائن کے گیٹ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا تو پی ایم ڈی سی انتظامیہ نے پانچ شہریوں کے نام اور پانچ سال پہلے مرنے والے شخص کا نام نکال کر دوبارہ پولیس چوکی کھیوڑہ میں ایک نئی درخواست دی گئی جس میں چار شہریوں کے نام ایف آئی آر درج کروائی گئی مگر پی ایم ڈی سی انتظامیہ نے بغیر تفتیش شہریوں کے نام ایف آئی آر درج کروا دی مگر افسوس کہ اپنے سیکورٹی اہلکاروں کے کسی بھی اہلکار کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کی گئی اور نہ ہی کسی قسم کی کوئی قانونی کاروائی کی گئی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.