کھیوڑہاہم خبریں

کھیوڑہ ٹاؤن کمیٹی کو یونین کونسل میں تبدیل کرنا ہمارے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے۔ راجہ غلام صفدر

کھیوڑہ ٹاؤن کمیٹی کو یونین کونسل میں تبدیل کرنا ہمارے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے ہم نے پی ٹی آئی کو ووٹ اس لیے دئیے تھے کہ ہمارا شہر تعمیر وترقی کرنے کے ساتھ ساتھ ایک ماڈل ٹاؤن بنے گا مگر افسوس کہ ہمارے شہر کا سٹیٹس اپ گریڈ کرنے کی بجائے الٹا ڈی گریٹ کیا گیا ہم کھیوڑہ ٹاؤن کمیٹی کو ہر گز یونین کونسل نہیں ہونے دیں گے۔

ان خیالات کا اظہار راجہ غلام صفدر شمی رہنما پی ٹی آئی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے شہر کا سٹیٹس بحال رکھ کر ٹاؤن کمیٹی نہ کیا گیا تو ہم بھرپور احتجاج کریں گے اور ہر پلیٹ فورم پر اپنے حق کی آواز بلند کریں گے۔ ضلع جہلم کے دوسرے بڑے اور ضلع کے سب سے بڑے صنعتی شہر کو یونین کونسل میں تبدیل کرنا زیادتی ہے، دنیا کی دوسری بڑی نمک کان اور سیاحتی ایریا ہونے کے باعث کھیوڑہ کی ٹاؤن حیثیت کا برقرار رہنا ضروری ہے، سوڈی گجرکلیوال اور ڈھوک وینس کو قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے کھیوڑہ کی حدود میں شامل کیا جا سکتا۔

راجہ غلام صفدر شمی رہنما پی ٹی آئی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی طرف سے کھیوڑہ کی ٹاؤن کمیٹی کی حیثیت کو ختم کر کے یونین کونسل بنانے کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد کھیوڑہ کے شہریوں میں سخت غم وغصہ پایا جاتا ہے، کھیوڑہ کی ٹاؤن حیثیت کے خاتمے کے بعد بین الاقوامی شہرت کے حامل شہر کو یونین کونسل میں تبدیل کر دیا جائے گا جس کے باعث نہ صرف مقامی لوگوں کو مشکلات درپیش ہوں گی بلکہ آنے والے سیاحوں کے لیے بھی وہ سہولیات میسر نہیں ہوسکیں گی جو ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ کھیوڑہ میں دنیا کی دوسری بڑی نمک کی کان بین الاقوامی شہرت اور جہلم کا سب سے بڑا صنعتی شہر ہے کسی بھی ٹاؤن کے طور پر ہونے والا اسٹرکچر بھی مکمل طور پر کھیوڑہ میں موجود ہے لیکن اس کے باوجود بھی اس کی ٹاؤن حیثیت کو ختم کرنا سمجھ سے بالاتر ہے کھیوڑہ شہر سیاحتی اور تاریخی علاقہ ہونے کے باعث سیاحوں کی نگاہوں کا مرکز بنا ہواہے جس میں ملکی اور غیرملکی تمام قسم کے سیاح روزانہ ہزاروں کی تعداد میں آتے ہیں ہونا تو یہ چاہیے تھا بہتر طور پر ڈویلپ کر کے اسے ماڈل کا درجہ دیا جاتا جس سے نہ صرف مقامی افراد کو روزگار میسر آتا بلکہ بہتر ڈویلپمنٹ کے باعث پاکستان اور دنیا بھر سے سیاحوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے حکومت کی طرف سے کیا گیا فیصلہ ان کے سیکرٹریٹ میں بیٹھے بابوؤں کی لاعلمی کے باعث انتہائی غلط ہے جو کہ نہ صرف سیروسیاحت کے لئے آنے والے افراد بلکہ مقامی آبادی کے لئے بھی باعث آزار بنے گا حکومت کو چاہیے کہ کھیوڑہ کی حد تک اس نوٹیفیکیشن میں ترمیم کرتے ہوئے اسے واپس لیا جائے اور کھیوڑہ کا پرانا سٹیٹس بحال رکھتے ہوئے اسے ماڈل کے طور پر تعمیر کیا جائے اور اگر قانونی تقاضے پورے کرنے ہیں تو سوڈی گجرکلیوال اور ڈھوک وینس کو اس میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button