جہلم

عوام میں خود کچھ کرنے کی کم اور تمام مسائل کے حل کیلئے حکومت کو ذمہ دار ٹہرانا تکیہ کلام بن گیا، رپورٹ

جہلم: عوام میں خود کچھ کرنے کی صلاحیت روز بروز کم ہورہی ہے اور تمام مسائل کے حل کے لئے حکومت کو ذمہ دار ٹہرانا تکیہ کلام بنتا جا رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق معاشرہ تیزی سے بے حسی کر طرف بڑھتا چلا جارہا ہے اورروز بروز مسائل میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جن کاموں کو عرصہ دراز سے خود سرانجام دیا جاتاتھا اب ان کاموں کو بھی حکومت کی ذمہ داری سمجھ یا سوچ کر جان چھڑائی جا رہی ہے۔

ایک دوسرے سے دوریاں بڑھتی جا رہی ہیں۔مل جل کر تکلیف،مصیبت او ربیماری کا سامنا کیا جاتا تھا لیکن اب کوئی بھی پریشانی ہو تو فوراً دوسروں کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔اپنے گھر کے سامنے روزانہ اور مہنے میں ایک دفعہ سارے گاؤں والے مل کرسارے گاؤں سے صفائی کرتے تھے مگر اب گھر کے سامنے بھی صفائی کر نے کی عادت نہیں رہی۔

جب بھی کوئی بات ہوتی ہے تو فوراًایک جملہ جسے ہم نے تکیہ کلام بنا لیا ہے کہ حکومت نے عوام کے لیے کچھ نہیں کیا۔مگر ہم نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ جن کاموں کو ہم عرصہ دراز سے خود سرانجام دے رہے تھے وہ بھی حکومت کے کھاتے میں ڈال دیے ہیں جس سے اپنے ہی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔

صفائی کے لحاظ سے شہر اور گاؤں کی حالت ایک جیسی ہوتی جارہی ہے۔ سڑکوں اور گلیوں کے کناروں پر جڑی بوٹیاں اس قدر اْگی ہیں ایسا لگتا ہے جیسے یہاں انسان نہیں کوئی اور مخلوق بستی ہے۔بے حسی کا عالم یہ ہے اپنے گھر کی دیوار کے ساتھ خطرناک جڑی بوٹیوں کو بھی حکومت کی ذمہ داری سمجھ کر صفائی نہیں کرواتے کیوں کہ وہ سڑک کے کنارے پر اْگی ہیں اور سڑک گورنمنٹ کی ہے چاہے گزرنے میں تکلیف ہی کیوں نہ ہو رہی ہو۔کئی مقاما ت پر تو ان جڑی بوٹیوں کی وجہ سے گزرنا ہی محال ہے۔کوڑا کرکٹ کا حال یہ ہے کہ جب تک بدبو نہ آنی شروع ہو ہم ٹس سے مس نہیں ہوتے۔

شہر کی گلیاں ہوں یا گاؤں کی نالیاں صفائی تب کی جاتی ہے جب حالت ناگزیر ہو جائے۔لہٰذا سر دست ہمیں خود کو درست کر نے کی اشد ضرورت ہے۔حکومت کر طرف سے مسائل کا سامنا تو ہمیں مجوراً کرنا پڑے گا مگر جن امور کو سرانجام دینے سے ہمارے مسائل میں کمی ہو سکتی ہے اْنہیں سر انجام دینے میں دیر نہیں کرنی چاہے۔

حکام بالا سے درخواست ہے کہ صفائی مہم کا آغاز کریں یاپھرہر گاؤں یا شہر کے سربراہاں کونوٹس بجھوا کر توجہ دلائیں تا کہ شہر اور گاؤں میں کم از کم صفائی کا خیال تو رکھا جا سکے جس سے یقینا اچھی فضا اور صاف ستھری ہوا میں سانس لینے سے صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button