پنڈدادنخاناہم خبریں

کوشش ہے لاک ڈاؤن کی طرف نہ جانا پڑے، فواد چوہدری

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا ہے کہ کوشش ہے کہ لاک ڈاؤن کی طرف نہ جانا پڑے اور عید کی 5 چھٹیاں دی جا رہی ہیں۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ حکومت اتنی سنجیدہ ہے کہ ہم نے خیبرپختونخوا میں اپنے وزیر کے اوپر ایف آئی آر کردی، یہ 20 سے 22 کروڑ عوام کا ملک ہے یہاں ہر کام ڈنڈا لے کر نہیں کرواسکتے، خود بھی تو عقل کرنی چاہیے، یہ اپنی زندگیوں کا معاملہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت 5 ہزار متاثرین تشویش ناک حالت میں ہیں، اس سے پہلے پیک 3400 تھی یعنی 3400 مریض انتہائی نگہداشت میں گئے تھے اب 5 ہزار لوگ گئے ہیں، اگر ہم ایک سال پہلے وہ اقدامات نہ کیے ہوتے جو اس حکومت نے کیے ہیں تو ہماری حالت بھی تقریباً بھارت کی طرح ہوتی۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس ایک سال میں دوران 7 ہزار بیڈز کا اضافہ کیا جس میں آکسیجن اور وینٹی لیٹربیڈز بھی شامل ہیں، اگر یہ نہیں ہوتا ہماری حالت بھارت کی طرح ہوتی، ہم نے ایک سال میں اپنی صلاحیت دوگنا کی، اگر ایسا نہ کرتے تو آج آکسیجن کی حالت بھی ہمارے ہاتھ سے نکل چکی ہوتی۔

آکسیجن کی پیداوار کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ جون 2020 میں 484 میٹرک ٹن روزانہ بنا رہے تھے اور اس وقت 792 میٹرک ٹن بنا رہے ہیں اور 308 میٹرک ٹن کا اضافہ کیا ہے جس کی وجہ سے ابھی آکسیجن کا بحران پیدا نہیں ہوا، صحت کے شعبے میں 500 میٹرک ٹن آکسیجن جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت تشویش ناک حالت کے مریضوں کی ضروریات کے لیے کافی ہے لیکن ہم 90 فیصد تک پہنچ گئے ہیں اور ہمارے تین آپشنز ہیں، ایک صنعت سے لے کر صحت کے شعبے کو دیں گے پھر چین اور ایران سے آکسیجن درآمد کرنے کی بات چیت چل رہی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں بحران ضرور ہے لیکن افراتفری نہیں ہے اور حالات جس طرح آگے جارہے ہیں اور معاملہ کم نہ ہوا تو ہمیں مسائل بھی درپیش ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی حکومت نے مردان میں مکمل لاک ڈاؤن کیا ہے جہاں کووڈ کی شرح 40 فیصد کے قریب پہنچ گئی ہے۔ فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ قریبی شہروں کو شدید خطرات لاحق ہیں، اسی لیے حکومت نے مردان میں کل مکمل لاک ڈاؤن کردیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی سربراہی میں ہوئے این سی او سی کے گزشتہ اجلاس آرمی چیف اور دیگر اسٹیک ہولڈرز شریک تھے، جس میں وزیراعظم کی طرف سے ہدایت کی گئی تھی کہ ہمیں مکمل لاک ڈاؤن کرنا پڑے تو پھر ہمیں پوری تیاری کرنی پڑے گی ضروری اشیا کی فراہمی متاثر نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ کوشش ہے کہ لاک ڈاؤن کی طرف نہ جانا پڑے، اس دفعہ عید کی 5 چھٹیاں بھی کی جا رہی ہے جو ملاکر اس سے زیادہ ہوں گی تاہم اس کا فائدہ ہوگا کہ موقع ملا کیونکہ کووڈ کا 77 فیصد مسئلہ شہروں کا ہے، اس لیے لوگ گاؤں کی طرف جائیں گے تو مسائل کم ہوں گے۔

ویکسین کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ویکسین کے لیے ایک مدت چاہیے اور اس کا اثر آتے ہوئے کچھ مہینے درکار ہوتے ہیں، ہمارا مسئلہ تو یہ ہے کہ اس ہفتے اور اگلے دس دنوں میں کیسے کام کرائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں تقریباً 20 لاکھ لوگ ویکسین لگوا چکے ہیں جبکہ دنیا میں ویکسین لگوانے والوں کی تعداد ایک ارب تک ہوگئی ہے، اس لیے جو لوگ تذبذب کا شکار ہیں ان سے کہوں گا ایک ارب لوگوں نے سمجھا کہ یہ محفوظ معاملہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج کابینہ گردشی قرضے پر بریفنگ ہوئی جس کا مسئلہ ہے کہ نواز شریف کی گزشتہ حکومت نے 50 فیصد ایکسس بجلی پیدا کی جس کی ہمیں ضرورت نہیں تھی، اس کی کئی وجوہات تھیں بدقسمتی سے انہوں نے 40 سے 50 فیصد زائد بجلی کی صلاحیت لگائی، اس سے ہماری لازمی ادائیگی 450 ارب سے بڑھ کر اس سال 900 ارب پر چلے گئے ہیں۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ 2023 میں جب انتخابات کا سال ہوگا تو بجلی کے چارجز بڑھ 1500 ارب روپے ہوں گے یعنی ہم بجلی استعمال کریں یا نہ کریں ہمیں ادائیگی کرنی ہوگی، اس کی وجہ سے بجلی کے نرخ میں 11 روپے 75 پیسے بڑھ کر 16 روپے 44 پیسے اضافہ ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ ایسے راستے تلاش کریں جس میں بجلی کی قیمت بڑھائے بغیر اس معاملے کا کوئی حل نکال سکیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button