جہلم

صحافت ریاست کا چوتھا ستون مگر قلم قرطاس کا مزدور آج بھی رضا کارانہ کام کرنے پر مجبور ہیں۔ چوہدری عابد محمود، میاں ساجد

جہلم:صحافت ریاست کا چوتھا ستون مگر قلم قرطاس کا مزدور آج بھی رضا کارانہ کام کرنے پر مجبور ، نسل در نسل اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے باوجود علاقائی صحافی مزدور جیسے بنیادی حقوق سے بھی محروم ہیں ، ریاست کے چوتھے ستون کی بنیادی اکائی کے حقوق سلب کرنا ظلم و زیادتی کے مترادف ہے۔

ان خیالات کا اظہار جہلم پریس کلب کے سابق صدر چوہدری عابد محمود ، پرنٹ میڈیا کے صدر میاں محمد ساجد نے اپنے مشترکہ بیان میں کیا ، انہوں نے کہا کہ میڈیا اداروں میں کارکن صحافیوں کو عارضی بنیادوں پر بھرتی کیا جاتا ہے ، لیکن صحافیوں کو کسی قسم کی مراعات نہیں دی جاتی اس طرح علاقائی صحافیوں کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ علاقائی صحافیوں کی کم از کم تنخواہ ایک مزدور کی ماہانہ اجرت کے برابر طے ہونی چاہیے جس سے نہ صرف زرد صحافت کاخاتمہ ہوگا بلکہ ریاست کا چوتھا ستون بطور صنعت ابھر کر اہم مقام حاصل کرلے گا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے لئے کسی تباہی سے کم نہیں جس کی بنیادی وجہ علاقائی صحافیوں کے پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے مالکان کا سوتیلی ماں جیسا رویہ ہے ۔مالکان علاقائی صحافیوں کے لئے مراعات کااعلان کریں تو ایک بڑی قوت مالکان کے دست بازو بن سکتی ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button