ڈسٹرکٹ فوڈ اتھارٹی شہریوں کو ہوٹلوں سے معیاری کھانوں کی فراہمی یقینی بنانے میں بری طرح ناکام

0

جہلم: ڈسٹرکٹ فوڈ اتھارٹی شہریوں کو ہوٹلوں سے معیاری کھانوں کی فراہمی یقینی بنانے میں بری طرح ناکام۔جرمانوں سے ریونیو اور افسران کو سب اچھا ہے کی رپورٹیس دینے سے حالات بہتر ظاہر کرنے کی ناکام کوششیں جاری ، شہریوں کو مطمئن کرنے میں ڈسٹرکٹ فوڈ اتھارٹی بری طرح ناکام۔ انسانی جانوں سے کھیلنے والے فوڈ مافیا کے خلاف بھرپور کاروائی کا مطالبہ۔

جہلم شہر سمیت جی ٹی روڈ پر قائم چھوٹے بڑے درجنوں ہوٹلوں اور ریڑھیوں پر کھانے فروخت کرنے والے مالکان نے حفظان صحت کے اصولوں کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے اپنے کارروبار چمکا رکھے ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر سجنے والے ہوٹلوں ،ریڑھیوں پر فروخت ہونے والے کھانوں میں استعمال کئے جانے والے غیر معیاری مصالحہ جات سمیت گھی و کوکنگ آئل کی تحقیقات تو کجا سروس کے معیاری ہونے کی جانب بھی کوئی توجہ نہیں دی جارہی ۔

کھانوں کے لئے استعمال ہونے والے برتن واضح طور پرپرانی میل سے اٹی چھابڑیوںکی کبھی صفائی کرنا یا تبدیل کرنا مالکان نے گوارہ نہیں کرتے۔ گلاس اور پلیٹیں بھی گندے استعمال شدہ پانی میں بھگو کر گندے پانی میں کھنگال کرکے دوبارہ استعمال کیلئے پیش کردیئے جاتے ہیں۔پینے کیلئے فراہم کیا جانے والا پانی بھی کیمیکل والے ڈرموں اور بوسیدہ زنگ آلود ٹینکیوں میں سٹور کیاجاتا ہے جس میں سے پانی نکالنے کیلئے ٹیبل جگ کو بار بار استعمال کیا جاتا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ ڈسٹرکٹ فوڈ اتھارٹی کے ذمہ داران سب اچھا ہے کی رپورٹیں بھجوانے اور ریونیو میں اضافے کی غرض سے چھوٹے بڑے ہوٹلوں کے مالکان کو جرمانے تو کرتے دکھائی دیتے ہیں مگر صفائی کے انتظامات کے حوالے سے کوئی بہتری نہیں لائی جا رہی ۔ ہوٹل مالکان کا کہنا ہے کہ سال میں ایک دو بار جرمانہ ادا کرنے سے ان کا کاروبار سارا سال چلتا ہے۔

شہریوں نے ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی، ڈپٹی کمشنر جہلم سے مطالبہ کیا ہے کہ ان پڑھ ہوٹل مالکان میں شعور کی بیداری کیلئے پیور فوڈ ایکٹ کے مطابق اردو پمفلٹس کی تقسیم اور لیکچرز کے اہتمام کیساتھ پیور فوڈ ایکٹ پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے،تاکہ شہریوں کو حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق کھانے مہیا ہوسکیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.