جہلم

کردار سازی کے بنیادی اسلامی اصول قائد اعظم کی صفات ثانیہ تھے۔ سرفراز ملک

جہلم: کردار سازی کے بنیادی اسلامی اصول قائد اعظم کی صفات ثانیہ تھے۔
ان خیالات کا اظہار تقریب کے مہمان خصوصی جہلم کی سماجی و تعلیمی شخصیت منیجنگ ڈائریکٹر SLSکالج سرفراز ملک نے بانی پاکستان حضرت قائد اعظم علی جناح کے یوم ولادت کے سلسلہ میں المرکز جہلم میں منعقد ہونے والی ’’قائد اعظم ایک عہد ساز شخصیت‘‘ کے موضوع پر ایک خصوصی ادبی محفل و ملی مشاعرہ کے شرکاء اور منتظمین سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ عظیم انسان روز روز پیدا نہیں ہوتے ، ایسے انسانوں کیلئے تاریخ کو مدتوں منتظر رہنا پڑتا ہے۔زمانے کی کتنی ہی گردشوں ، وقت کی کتنی ہی کروٹوں اور انسانیت کی کتنی ہی دعاؤں کے بعدکوئی ایسا انسان پیدا ہوتا ہے جو صرف عظمت کے معیار پر پورا نہیں اترتا بلکہ اسے دیکھ کر خود عظمت کا معیار قائم کیا جاتا ہے، ایساہی انسان میر کارواں کا کردار ادا کرتا ہے کیونکہ اسے فطرت نے بہترین صلاحیتوں سے نوازا ہوتا ہے،کو ن جانتا تھا کہ 25دسمبر 1876کو کراچی میں پیدا ہونے والہ یہ بچہ دراصل مشرق کے اقبال کا ستارہ اور ایک اسلامی سلطنت کا بانی بنے گا۔
انہوں نے پاکستان کی پہلی کابینہ کے اجلاس کا ذکر کیا جس میں قائد اعظم بھی شریک تھے ، ADCگل حسین نے قائد اعظم سے پوچھاکے شرکاء کو چائے پیش کی جائے یا کافی اس پر قائد اعظم نے چونک کر سر اٹھایا اور پوچھا کہ یہ گھروں سے چائے کافی پی کر نہیں آئے۔
انہوں نے فرمایا کی یہ قوم کا پیسہ ہے قوم پر ہی لگنا چاہیے ان وزیروں پر نہیں ، یہ اجلاس سے پہلے یا بعد اپنے گھروں سے چائے یا کافی پی کر آئے ۔
انہوںنے ڈاکٹر اسد مرزا صدر المرکز کونسل، چوہدری جاوید احمد صدر سی ڈی سی، شیخ شاہد جلیل سیٹھی جنرل سیکرٹری سی ڈی سی اور میجر(ر) آرگون گل خان چیئرمین ادب و ثقافت کمیٹی کا خوبصورت محفل کے انعقاد پر مبارک دی اور شکریہ ادا کیا۔
تقریب میں میجر(ر) آرگون گل خان، احسان شاکر، پروفیسر قدرت علی سیالوی نے بہترین الفاظ میں قائد کو خراج تحسین پیش کیا ، شاعرہ عصمہ اقبال، شاعرامجد میر، اشتیاق پال ، آصف زمان ڈار اور دیگر نے اپنا اپنا کلام اور خیالارت کا اظہار کر کے محفل کی رونق کو دوبالا کر دیا۔
تقریب کی صدارت کا سہرا امریکہ سے تشریف لائی ہوئی میڈم یاسمین سحر کے سر تھا۔انہوںنے اپنی شاعری سے محفل کو چار چاند لگا دئیے۔ ان کی شاعری وطن اور اردو سے محبت کو منہ بولتا ثبوت تھا۔ جن کا دیا ر غیر میں بھی رہ کر دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتا ہے۔
آخر میں ڈاکٹر اسد مرزا نے مہمانوں کو تحائف سے نوازا اور شرکاء اور مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button