جہلم

سرکاری دفاتر میں مفت بجلی و انٹرنیٹ، ملازمین نے لوٹ مار مچادی، دوستوں کی بھی موجیں

جہلم: سرکاری دفاتر میں مفت بجلی و انٹرنیٹ ، ملازمین نے لوٹ مار مچادی،دوستوں کی بھی موجیں ، سرکاری دفاتر میں چوبیس گھنٹے اے سی ، کمپیوٹر ، انٹرنیٹ چلنے لگے،ایک کی جگہ دس دس بلب ، دفاتر بند ہونے کے باوجود سینکڑوں لائٹیں ، پنکھے چلتے رہتے ہیں، افسران ، ملازمین عیاشی میں مصروف ، حکومت بجلی بچت کی حکمت عملی طے نہ کرسکی۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے بچت اور سادگی کی پالیسی اپنانے کے اعلانات کے باوجود جہلم شہر میں سرکاری اداروں نے بچت پالیسی کی بجائے عیاشی پالیسی جاری کر رکھی ہے ، ڈی سی آفس، اے سی آفس، بلدیہ دفترسمیت شہر کے تقریبا تمام تر سرکاری اداروں میں بجلی اور انٹرنیٹ کا بے جا استعمال انتہا کو چھو رہا ہے سرکاری دفاتر میں افسران اور ملازمین سرکاری بجلی کو اتنی بے دردی سے استعمال کررہے ہیں کہ دفتری اوقات میں افسران کے آنے سے دو تین گھنٹے پہلے ہی اے سی چلادئیے جاتے ہیں جبکہ افسران کے دفتر سے جانے کے بعد ملازمین کئی کئی گھنٹے اے سی چلائے رکھتے ہیں۔

دوسری جانب سے حکومت کی جانب سے فراہم کردہ سرکاری امور کیلئے انٹرنیٹ کی سہولت کو بھی بھرپور طریقے سے ضائع کیا جارہا ہے سرکاری اوقات اور بعد میں بھی دفاتر کے انٹرنیٹ بدستور چلتے رہے ہیں کئی ایک دفاتر میں ملازمین نے دوستوں ، قریبی دوکانداروں اور احباب کو بھی پاس ورڈ دے کر سرکاری مال کو مال مفت سمجھ کر تقسیم کرنا معمول بنا رکھا ہے ، دفتری اوقات کے بعد سائلین کا کام کرنا تو گوارا نہیں لیکن کئی کئی گھنٹے دوستوں کی محافل جما کر سرکاری بجلی کا بیڑہ غرق کیا جارہا ہے کئی ایک دفاتر میں رات بھر اے سی اور پنکھے چلتے رہتے ہیں اور چوکیدار ان کو بند کرنے کی زحمت نہیں کرتے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جہلم شہر کے کئی ایک سرکاری دفاتر میں ملازمین اور چوکیدار رات بھر اے سی چلا کر مزے کی نیند سوتے ہیں ۔ دوسری جانب سے سرکاری دفاتر جہاں ایک ٹیوب لائٹ یا بلب سے آسانی سے کام چل سکتا ہے وہاں سینکڑوں کے حساب سے بلب اور ٹیوب لائٹیں دن رات چلتی رہتی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ توانائی بچت کیلئے سب سے پہلے سرکاری دفاتر میں بجلی ، انٹرنیٹ ، پنکھوں اور لائٹوں کے بے جا استعمال کو روکنا ہوگا ،ہر ضلع کے ڈی سی کو چاہئیے کہ وہ دفتری اوقات کے بعد سرکاری دفاتر کی خفیہ چیکنگ کا انتظام کرئے اور بجلی ضائع کرنے والے ملازمین اور افسران کے خلاف سخت کاروائی کی جائے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button