دنیا بھر میں ہیپاٹائٹس کے35کروڑ مریض ہیں ان میں ڈیڑھ کروڑ پاکستانی شامل ہیں، مقررین

0

جہلم: دنیا بھر میں ہیپاٹائٹس کے پینتیس کروڑ مریض ہیں ان میں ڈیڑھ کروڑ پاکستانی شامل ہیں،پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں ہیپاٹائٹس کا مرض تیزی سے پھیل رہا ہے،ہیپاٹائٹس کے پھیلاؤ کی بنیادی وجہ شعور کی کمی اور علاج معالجے کی سہولیات کی عدم دستیابی ہے، پاکستان میں ہیپاٹائٹس کے ڈیڑھ کروڑ میں سے ایک کروڑ چالیس لاکھ ہیپاٹائٹس بی اور سی کے مریض ہیں۔

ان خیالات کا اظہار پاکستان سوسائٹی آف ہیپٹالوجی اور پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن جہلم کے زیر اہتمام نجی ہوٹل میں ہونے والے گیسٹروانٹرالوجی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کیا۔

شیخ زاہد ہسپتال کے پروفیسر جاوید اقبال فاروقی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جگر انسانی جسم کا ایک اہم عضو ہے جو متوازن زندگی گزارنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جگر کا بنیادی کام صفرا بنانا ہے جو جسم کے اندر اہم کام سر انجام دیتا ہے۔ جگر چکنائی فراہم کرنے والے اجزاء کو ذخیرہ کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ طبی اصطلاح میں جگر کے سکڑنے کو ہیپا ٹائٹس کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ کسی مرض کے باعث جگر پر سوزش یا زخم بن جانے کی وجہ سے بھی جگر صفرا بنانا چھوڑ دیتا ہے۔ ہیپا ٹائٹس کی علامات ابتدا میں ظاہر نہیں ہوتی اسی لئے بروقت تشخیص نہ ہونے کی وجہ سے مرض بڑھتا جاتا ہے۔ اس لئے اسے خاموش قاتل بھی کہتے ہیں۔

پروفیسر الطاف عالم نے کہا کہ ہیپا ٹائٹس کی بہت سی اقسام ہیں جن میں پیلا یرقان، زرد یرقان اور کالا یر قان بھی شامل ہیں۔ مرض سے بچاؤ اور پھیلاو کی شرح کم کرنے کا واحد نسخہ اس خطرناک مرض سے آگاہی ہے۔

اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر بشری علی نے مقررین سے خطاب دوران کہا کہ مرض کے ابتداء میں جگر کے سکڑنے کی چند ہی علامات ظاہر ہوتی ہیں جس میں مریض کا وزن کم ہو جا تا ہے۔ جگر اور بدن کے اعضاء جیسے پاوں، ٹانگیں اور پیٹ میں درد کی شکایات پائی جاتی ہیں۔ پھر کچھ عرصے بعد بھوک میں کمی، رنگت میں پیلاپن ،پیروں پر سوجن وغیرہ جیسی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مرض شدت پکڑنے لگتا ہے۔جگر کے کام کرنے کی صلاحیت بھی متاثر ہونے لگتی ہے جس کے نتیجے میں ٹانگوں میں سوجن اور پیٹ میں پانی کا جمع ہونا شامل ہے۔ مرض کے آخری مراحلے میں جب جگر کام کرنا چھوڑ دیتا ہے تو اسے ہیپا ٹائٹس (یرقان) کہتے ہیں۔

میڈیکل سپیشلسٹ و گیسٹروانٹرالوجسٹ ڈاکٹر سعید انور کا کہنا تھا کہ ایسے مریضوں میں زہریلے مادے خون میں گردش کرتے ہیں۔ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت میں کمی ، تھکاوٹ ، آنکھوں ، پیشاب اور جلد کا پیلا پن عام علامات ہیں۔ہیپاٹائیٹس سی ایک وائرس ہے جو آپ کے جگر کو بیمار کردیتا ہے۔ الکحل کا زیادہ استعمال، منشیات کا استعمال، کچھ کیمیکلز اور کچھ دوسرے وائرس بھی جگر کو بیمار کر سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جگر آپ کی صحت کے لیے بہت اہم ہے۔ جب جگر  میں تکلیف ہو یا اسے نقصان پہنچے تو یہ ٹھیک طریقے سے کام نہیں کرتا اور آپ کو بیمار کردیتا ہے۔ہیپاٹائیٹس سی کو بعض اوقات ’’ہیپ سی‘‘ بھی کہتے ہیں۔

تقریب کے مہمان خصوصی ڈی سی جہلم سیف انور جبہ اور پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر حفیظ الرحمن تھے جنہوں نے شاندار پروگرام پر شیخ زاہد ہسپتال کے پروفیسرز اسسٹنٹ پروفیسرز اور میڈیکل سپیشلسٹ و گیسٹروانٹرالوجسٹ ڈاکٹر سعید انور کا شکریہ ادا کیا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.