جہلم

موسم گرما شروع ہوتے ہی کپڑوں اور جوتوں کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرنے لگیں

جہلم: موسم گرما شروع ہوتے ہی کپڑوں اور جوتوں کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرنے لگیں، بازاروں میں خریداروں کا رش، کپڑے اور جوتوں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے سفید پوش اور غریب طبقہ بھاؤ پوچھنے تک ہی محدود ہو کر رہ گیا۔

موسم تبدیل ہوتے ہی گرمی کے موسم کے کپڑوں اور جوتوں کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ ہونے سے شہر کے بازاروں میں خریداروں کے رش میں دن بدن اضافہ ہوتا نظر آ رہا ہے، بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے لئے دکانداروں نے بھی کپڑوں اور جوتوں کی قیمتوں میں 50% اضافہ کر کے مہنگائی کا طوفان برپا کر رکھاہے اور یہ بات بھی علم میں آئی ہے کہ دکانداروں نے اپنی دکانوں کے کرایوں، ملازمین کی تنخواہوں، بجلی کے بلوں سمیت دیگر اخراجات کے حساب سے جوتوں اورکپڑوں کی قیمتیں مقرر کر رکھی ہیں۔

اس حوالے سے شہریوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ موسم گرما کا آغاز ہوتے ہیں، شہر کے دکانداروں نے کپڑے اور جوتوں کی قیمتوں میں من پسند اضافہ کر کے شہریوں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنا شروع کر رکھا ہے، غریب، سفید پوش طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد خریداری کرنا تو دور کی بات کپڑوں اور جوتوں کے بھاؤ پوچھنے تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ دکانداروں نے صارفین کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے۔

سماجی و شہری تنظیموں کے عمائدین سمیت عوامی حلقوں نے ارباب اختیار سے پرزور مطالبہ کیا ہے ، اپنی جیبیں بھرنے کیلئے مصنوعی مہنگائی کرنے والے تاجروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لاتے ہوئے شہریوں کو ریلیف فراہم کیا جائے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button