جہلم

ضلع جہلم کی روایتی مٹھائیوں میں جلیبیاں آج بھی شہریوں کی پسند۔ خصوصی رپورٹ

جہلم: ضلع بھر کی روایتی مٹھائیوں میں جلیبیاں آج بھی شہریوں کی پسند ہیں ، گاؤں ، گاؤں شہر، شہر گرما گرم خستہ کڑ کڑیاں جلیبیاں نکالنے والو ںکی دکانوں پرجلیبیاں کھانے والوں کا جمِ غفیر نظر آتا ہے ، موسم سرما میں میٹھی گرما گرم جلیبیاں کھانے کا مزا ہی کچھ اور ہے جلیبی کے شوقین لوگ جلیبی کے ساتھ ساتھ گرم گرم چائے پی کر اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں جبکہ دیہاتوں میں یہ من پسند خوراک تصور کی جاتی ہے۔

دودھ جلیبیاں کھانے کا سلسلہ تو زمانہ قدیم سے چلا آرہاہے گرم گرم دودھ میں جلیبیاں ڈال کر 15 سے20 منٹ تک رکھ دی جاتی ہیں اس کے بعد اسے تناول کرنے کا لطف ہی کچھ اور ہوتا ہے ، انتہائی مزیدار قوت بخش خوراک سے شہری و دیہاتی خوف لطف اندوز ہوتے ہیں ، بزرگ افراد اسے دماغ اور نظر کیلئے اچھی خوراک قرارد یتے ہیں آنے والے مہمانوں کی تواضع کرنے کی روایات بھی ماضی قدیم سے برقرار ہے۔

جہلم سمیت ضلع بھر کے میلوں ٹھیلوں میں بھی جلیبیوں کی دکانیں سجتی چلی آرہی ہیں ، ان سے ہی میلوں کی رونق کو چار چاند لگ جاتے ہیں اور لوگ اپنے رشتہ داروں دوستوں کو بھی جلیبی کے تحائف بھجواتے ہیں ، سنتری ،بادامی اور سفید رنگ کی گرم گرم جلیبیاں دیکھ کر شہریوں کے منہ سے رالیں ٹپکنے لگتی ہیں ، گاہے بگاہے شہریوں میں جلیبیاں کھانے کے مقابلے بھی منعقد ہوتے ہیں۔

جلیبی کی روایات پنجاب کے وسیب سے جڑی ہوئی ہے ،دھند اور شدید سردی میں دودھ جلیبیاں کھانے کا لطف ہی اور ہے ، یہ عام و خواض کی یکساں پسندیدہ خوراک ہے ، بل کھاتی جلیبیوں والی مٹھاس کے ساتھ ساتھ دلوں میں محبت کو رواج بھی دیتے آرہے ہیں، شوگر کے مریضوں کے لئے حلوائی فری شو گر جلیبیاں بھی تیار کرتے ہیں۔

شادی ، بیاہ و دیگر تقریبات کے موقعوں پر اپنے عزیزو اقارب ، دوست احباب کو جلیبیوں کے تحفے بھجوائے جاتے ہیں اور ان خوشی کے موقعوں پر حلوائیوں کو لوگ اپنے گھروں میں بلوا کر جلیبیاں وغیرہ تیار کرواتے ہیں جو کہ رسم کے طور پر ادا کی جاتی ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button