کالم و مضامین

جی ٹی روڈ

تحریر: سید توقیر آصف شاہ

موجودہ دور چیلنجز کا دور ہے جہاں ہر شعبہ زندگی مسلسل جستجو میں ہے اس تیز رفتار دور میں جہاں کچھ شعبہ جات چیلنجز کا مقابلہ کرتے ہوئے صف اول میں کھڑے نظر آتے ہیں تو وہیں کچھ شعبہ جات ایسے بھی ہیں جہاں کرپشن عروج پر ہے جبکہ ترقی و خوشحالی ناپید ہے ۔

موجودہ دور میں ذرائع آمد و رفت کی اہمیت و افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا سفر چاہے و ہ ہوائی ہو یا زمینی گھریلو تجارتی سطح پر اس کی اہمیت مسلم ہے۔ اس ضمن میں ذرائع آمد و رفت کا اہم ذریعہ سڑک کو گردانا جاتا ہے جس کے بغیر آمدورفت کا سلسلہ ناممکن ہے ہیں یعنی ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ آمدورفت کے ذرائع میں سڑک ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ۔

آج سے تیس سال قبل جی ٹی روڈ کو دورویا سڑک بنا دیا گیا۔ جبکہ فروری 2002 سے جی ٹی روڈ کو نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کے حوالے کردیا گیا۔

اس وقت محکمہ کے ذمہ دار افسران نے حکومت وقت سے مطالبہ کیا کہ روڈ سروس سٹرکچر کو بہتر بنانے کے لئے اسے موٹر کے اصول و ضوابط کے مطابق تین لائن، سروس روڈ، ریکوری موبائل، انڈر پاس،ایمر جنسی یو نٹ کا اضافہ کیا جائے لیکن حکومت نے عملی کام کی بجائے صرف اپنی سیاست کو چمکایا یا اور راولپنڈی سے کھاریاں تا موٹر وے کا سور کنی یونٹ تعینات کردیا ۔

اس وقت ٹریفک والیوم روزانہ کی بنیاد پرگیارہ سے بارہ ہزار تھی جبکہ آج 29 سے 30 ہزار روزانہ ہے لیکن بدقسمتی سے ابھی تک وہیں سو رکنی یونٹ کام کر رہا ہے ہے جو بارہ ہزار کی تعداد پر تعینات تھا۔نہ ہی تعداد میں اضافہ کیا گیا اور نہ ہی وسائل کو بہتر بنایا گیا یا اس پر ستم ظریفی یہ کہ اس وقت سپاہی بھرتی ہونے کے رینک تک پہنچ چکے ہیں ۔

اس وقت سب انسپکٹر کے طور پر تعینات صرف انسپکٹر بن سکے مو ٹروے کا موٹو روڈ یو زر کی مدد تھی جس کو فراموش کر دیا گیا اور اب صرف سالانہ انعام کے لالچ میں زیادہ سے زیادہ چلان پر فوکس کیا جا رہا ہے ۔ اس عمل سے ایماندار آفیسر ناخوش اور نالاں نظر آتے ہیں۔ اسی وجہ سے اب موٹروے پولیس کو اینٹی ٹرک فورس سمجھا جاتا ہے۔

اسلام آباد، راولپنڈی سے آنے والی چار سے پانچ لائنوں پر مشتمل ٹریفک روات کے قریب دو لائنوں پر آجاتی ہیں جبکہ ایک لائن مقامی ریڑھی بان، پارکنگ اور پیدل چلنے والوں کے لیے مخصوص ہو گئی ہے جس کی وجہ سے آئے دن گھنٹوں ٹریفک جام رہتی ہے ۔

اسی طرح مندرہ ،گوجرخان، سو ہاوہ ،دینہ، جہلم اور کھاریاں تک حقیقت میں دو کی بجائے میں ایک لائن استعمال ہو رہی ہے۔ جو نہایت ابتری کا شکار ہے ۔ ان شہروں کی ٹریفک میں بے حد اضافہ کی وجہ سے آئے روز حادثات اوررا ہگروں کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو جی ٹی روڈ پرہجوم بازار کا منظر پیش کرتا ہے کیونکہ محکمہ این ایچ اے نے قسم کھا رکھی ہے کہ عوام کی بہتری کے لیے کوئی اقدام نہیں کرنا ۔

مقامی شہروں کے بعد بااثر کاروباری افراد نے اپنی مرضی کے مطابق سروس روڈ سے جی ٹی روڈ پر یو ٹرن بنانے اور بند کرنے کا ذمہ لے رکھا ہے۔ جو دن رات حادثات کا سبب بن رہا ہے، جس میں عوام اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ اقتدار کے ایوانوں میں مزے لینے والے عوام کی ان مشکلات سے بے خبر ہیں کیوں کہ جب وہ بذات خود رڈسے گزرتے ہیں ، تو ان کے لیے پروٹوکول کے طور پر کلیئر کر دی جاتی ہے یعنی ان کے خیال میں سب اچھا ہے کا عملی مظاہرہ پیش کیا جاتا ہے۔

موٹروے پولیس کے افسران این ایچ اے کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ موجودہ تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے فوری اور دیرپا اقدامات کئے جائیں تاکہ غریب عوام کی اذیتوں میں کمی ہو سکے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button