جہلماہم خبریں

جعلی شناختی کارڈ کیس، نادرا افسران اور عملہ ساڑھے چار سال بعد باعزت بری

جہلم: نادرا افسران و عملہ جعلی شناختی کارڈ کیس میںساڑھے چار سال بعد باعزت بری ، ایف آئی اے اور نادرا الزامات ثابت کرنے میںناکام، اعلی افسران سابق وزیر داخلہ کے حکم پر نام نہاد کیس میں کئی ماہ تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند رہے ، ایف آئی اے سپیشل کورٹ نے ہماری بے گناہی ثابت کر دی ہے، افسران کا اظہار تشکر۔
تفصیلات کے مطابق ن لیگی حکومت کے دور میں وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے ماتحت ادارے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی ( نادرا ) کے اعلی افسران او ر ما تحت عملہ جس میں چار مرد اور چھ خواتین ملازمین شامل تھے کو جعلی شناختی کارڈ بنانے کے الزام میں گرفتار کرکے ان کے خلاف زیر دفعہ 420-468-471کے تحت مقدمات درج کئے گئے۔
نوکریوں سے معطل کرکے کئی کئی ماہ تک جیلوں میں ذلیل وخوار کیا گیا جس کے بعدان نادار ملازمین کی ضمانت ہو گئی لیکن کیس چلتا رہا اورایف آئی اے سپیشل کورٹ میں کیس کے مدعی نادرا اور ایف آئی اے دونوں ہی افسران اور عملہ پر لگائے گئے الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہے جس کے بعد معزز عدالت نے تمام افراد کو بے گناہ قرار دے کر کیس سے باعزت بری کر دیا۔
اس حوالے سے متاثرہ نادرا ملازمین کا کہنا ہے کہ سابق دور حکومت میں ہمارے ساتھ سخت زیادتی کی گئی اور کئی کئی ماہ جیلوں میں بند رکھنے کے علاوہ ہمیں معاشرہ میں انتہائی بری طرح بدنام کیا گیا ، جھوٹے الزامات اور بدنامی کے باعث ہمارے خاندان کئی سال سے ذہنی پریشانی کا شکار رہے اس کا ذمہ دار کون ہے ؟۔
افسران نے بتایا کہ سابق وزیر داخلہ نثار علی خان کے دور میں بغیر کسی تحقیق کے ہم پر اتنے سنگین الزامات لگانے والوںکو کون پوچھے گا ، معزز سپیشل کورٹ نے ہماری بے گناہی ثابت کر دی ہے لیکن جو کچھ ہم نے گزشتہ ساڑھے چار سال تک بھگتا ہے اس کا ازالہ کیسے ہو گا۔افسران کا کہنا ہے کہ غلط اور بے بنیاد الزامات لگانے والوںکے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتے ہیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button