جہلماہم خبریں

جہلم کا رہائشی طالبعلم اغواء کاروں کے چنگل سے بھاگ نکلا

جہلم: طالبعلم اغواء کاروں کے چنگل سے بھاگ نکلا ، پٹرولنگ پولیس کے فرض شناس عملے نے گھر پہنچا دیا، والدین سمیت عزیز و اقارب میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔

تفصیلات کے مطابق جہلم محلہ بابا مہدی شاہ کا رہائشی طالبعلم محمد رضوان ولد محمد رمضان جو کہ سافٹ وئیر انجینئرنگ فورتھ ائیر کا طالبعلم ہے 27جنوری کو واہ کینٹ یونیورسٹی جانے کے لئے جہلم سے ہائی ایس وین پر سوار ہوا۔

طالبعلم محمد رضوان نے انکشاف کیا ہے کہ جب میں فیض آباد سٹا پ پر اترا تو چند لمحے بعد ایک مسافر وین آکر رکھی جنہوں نے مجھے کہا کہ اگر آپ واہ کینٹ جانا چاہتے ہیں تو گاڑی میں سوار ہو جائیں انہوں نے اپنی گاڑی میں سوار کر لیا گاڑی میں خواتین سمیت مرد موجود تھے۔

ڈرائیور نے چند گز فاصلہ طے کرنے کے بعد گاڑی کو موڑ لیا جس پر میں نے دریافت کیا کہ آپ مجھے کہاں لیکر جانا چاہتے ہوئے ، اس کے بعد مجھے کوئی ہوش نہیں رہا ،اغواء کار مجھے میر پور آزادکشمیر کے علاقہ میں لے آئے ،اغواء کاروں کو نامعلوم افراد کے میری بابت ٹیلیفون آتے تھے ، انہوں نے مجھے ایک کمرے میں بند کررکھا تھا۔

گزشتہ شام میری سیکورٹی پر معمور شخص کو جو کال آئی اس کال کو سننے کے بعد انہوں نے آپس میں فیصلہ کیا کہ آج رات اسے جہلم کے علاقہ میں رہا کر دینا ہے ۔ اس طرح گزشتہ رات نامعلوم افراد مجھے ڈمیلی کی پہاڑیوں میں چھوڑ کر چلے گئے ۔

نوجوان نے بتایا کہ اغواء کاروں نے میرے جوتے ، موبائل اور نقدی چھین لی اور مجھے ڈومیلی کی پہاڑیوں میں پھینک کر نامعلوم سمت کی طرف چلے گئے ، میں پیدل جی ٹی روڈ پر سفر کر رہا تھا کہ پٹرولنگ پولیس کے عملے نے مجھے روک کر دریافت کیا تو میں نے تمام حقائق سے آگاہ کیا جس پر پٹرولنگ پولیس کے سب انسپکٹرنے میرے گھر والوں کے ساتھ رابطہ کرکے مجھے میرے گھر جہلم پہنچایا ۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ طالبعلم محمد رضوان ولد محمد رمضان کے عزیز رشتہ دار 27 جنوری سے رضوان کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے تھے ، گزشتہ روز جب پٹرولنگ پولیس کی طرف سے انہیں بچے کے بازیاب ہونے کی خوشخبری ملی تو مغوی طالبعلم کے والدین سمیت عزیز و اقارب خوشی سے جھوم اٹھے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button