دینہ

دینہ کی تاریخی پست حالی، لاکھوں افراد کی گزرگاہ کئی دیہاتوں کا شہر سے رابطہ کا ذریعہ منگلا روڈ ٹوٹ پھوٹ کا شکار

دینہ کی تاریخی پست حالی، لاکھوں افراد کی گزرگاہ کئی دیہاتوں کا شہر سے رابطہ کا ذریعہ منگلا روڈ اپنی آخری سانسیں لیتی ہوئی، میڈیکل ڈاکٹر ایم پی اے و ایم این اے کی طرف بے حسی سے دیکھتی ہوئی غریب عوام کا تالاب نما سڑک سے گزرنا روزانہ کا معمول، رکشے اس تالاب میں خواتین کو گرا کر ذلیل و خواری کا باعث۔

تین سالوں میں منگلا روڈ کو صرف پنکچر لگائے گئے جو اب دوبارہ پنکچر ہو گئے، ایک پنکچر پر 18لاکھ روپے خرچہ آیا لیکن بے مقصد عوام آج بھی ذلیل ہو خوار ہو رہے ہیں، شاید ہماری نظریں کسی مسیحا کی متلاشی ہیں جو ایک بار پھر نئے جوش ولولے سے تبدیلی سرکار کے دعوے کرے اور ہماری قسمت بدل دے۔

دنیا ترقی کرتی ہے میری زندگی کے چالیس سالوں نے یہ دیکھا دینہ شہر نے ترقی کی بجھائے ترک ہی کیا اور ہم آج بھی 1980 کی دہائی میں زندگی گزار رہے ہیں وہی سہولیات جو 1980میں میسر تھی آج بھی انہی سے استفادہ کر رہے ہیں اگر یقین نہیں آتا تو واٹر سپلائی کی کسی جگہ سے پائپ لائن اکھاڑ کر دیکھ لیں وہ خود کہے گی مجھے بدلو۔خدارا اس شہر کے غریب باسیوں پر رحم کرو۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button