کھیوڑہ

نئے پاکستان میں بھی ٹینڈر ٹھیکوں میں ہونے والی بدعنوانی کا نقصان عوام برداشت کرنے لگی

کھیوڑہ: نئے پاکستان میں بھی ٹینڈر ٹھیکوں میں ہونے والی بدعنوانی کا نقصان عوام ہی کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ سال ہا سال کے بعد کھیوڑہ شہر میں ہونے والے ترقیاتی کاموں کا معیار انتہائی ناقص ہے۔ گلیوں اور لنک روڈز کی تعمیر میں کسی بھی قسم کا چیک اینڈ بیلنس نظر نہیں آرہا ہے اور نا ہی کام کسی معیار کے مطابق ہو رہا ہے۔یہ چلتا ہوا کام چند دن ہی چلے گا۔

تفصیلات کے مطابق کھیوڑہ شہر میں ترقیاتی کاموں کا موسم شروع ہو چکا ہے جس میں شہر کی متعدد گلیوں لنک سڑکوں کی تعمیر زور و شور سے جاری ہے تاہم انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ان تمام جگہوں پر انتہائی ناقص مٹیریل کا بے دریغ استعمال ہورہا ہے جس کی تازہ مثال وارڈ نمبر 10 نورال محلہ میں بننے والی گلی ہے جس کی تعمیر میں تھرڈ کلاس کوالٹی کا میٹریل استعمال کیا گیا ہے۔

پرانی اینٹیں نکالنے کے بعد سطح زمین کو لیول اور ہموار کئے بغیر غیر متوازن سطح پر چار انچ کے بجائے صرف دو انچ روڑی (Gravel) ڈال کرخاکے کے بجائے انتہائی ناقص ریت سے روڑی کی فلنگ کی جا رہی ہے کھیوڑہ سروئیرز اور سول انجینرز کا شہر کہلاتا ہے۔

عوامی حلقوں نے شہر کے سرویئرز سے گزارش کی ہے کہ وہ کسی بھی وقت شہر میں تعمیرات کے موقع پر جا کر کام کی کوالٹی اور مٹیریل کی کوانٹٹی اور کوالٹی چیک کرنے ضرور پہنچے اور ناقص کام کی پڑتال اپنے تجربے سے سامنے لے کر آہیں تاکہ قوم کا پیسہ ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔

اس کیساتھ ساتھ ذمہ دارٹھیکیدار چیف انجینئر ٹاؤن کمیٹی کھیوڑہ سے گزارش ہے کہ وہ کام کی کوالٹی اور مٹیریل کی کوالٹی اور کوانٹٹی کو ٹینڈر دستاویزات (Contract Specifications) کے مطابق ٹھیک کریں ورنہ اہلیان کھیوڑہ مزید کام کی اجازت نہیں دیں گے۔

ڈی سی جہلم اپنے خصوصی اخیارات استعمال کرتے ہوئے ناقص کام کر کے قومی خزانہ لوٹنے والوں کے خلاف فوری ایکشن لیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close