اپوزیشن بکھر رہی ہے، ن لیگ کے 12 ایم پی ایز کی فہرست جلد سامنے آئے گی، فواد چوہدری

0

وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں پاکستان مسلم لیگ (ن) چھوڑنے والے اراکین قومی اسمبلی اور سینیٹرز کی فہرست سامنے آئے گی۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ قطر سے 50 کروڑ ڈالر کی رقم موصول ہوئی، قطر سے رقم ملنے سے زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی بہتری آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘موجودہ حکومت ساڑھے 9 ارب ڈالر قرضوں کی مد میں واپس کرچکی ہے، گزشتہ 11 مہینوں میں قرض اور سود کی مد میں ادا کی گئی رقم سندھ کے بجٹ کے برابر ہے، آپ اندازہ لگالیں کہ کس قسم کی صورتحال تھی جس کا عمران خان کو سامنا تھا۔’

فواد چوہدری نے کہا کہ فوری بحران ٹل گیا ہے اور بجٹ بھی منظور ہوگیا ہے تاہم اب معیشت کودرپیش اصل چیلنج ٹیکس جمع کرنا ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اس سال ہم نے 5 ہزار 600 ارب روپے کا ٹیکس جمع کرنے کا ہدف طے کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ برٹش ایئرویز پاکستان کے لیے فلائٹ آپریشن بحال کرچکی ہے، اب یورپی یونین کے دیگر ممالک اور ایئرلائنز پاکستان کے لیے اپنی ایڈوائزریز تبدیل کررہے ہیں۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ برطانیہ کے ولی عہد اور مستقبل کی ملکہ پاکستان آرہے ہیں، اس سے دکھائی دیتا ہے کہ ہم کس طرف جارہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ابھی افغان صدر تشریف لائے تھے ان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات اور وزیراعظم عمران خان کے مجوزہ دورہ امریکا سے آپ کو محسوس ہوجائے گا کہ یہ گیم چینجر صورتحال ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ یورپی یونین سے 25 سال بعد سائنس و ٹیکنالوجی کے رابطے بحال ہوئے ہیں، حال ہی میں برسلز میں ہونے والے معاہدے میں ہہ شعبہ بھی شامل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں امید ہے کہ بھارت سے مثبت جواب ملے گا، افغانستان سے جو بہتر معاملات آگے بڑھے ہیں خطے میں بھی اس کا اثر ہوگا، افغانستان کو ہم نے قندھار میں کامسیٹس بنانے کی تجویز دی ہے، اس کے ساتھ ساتھ اگر انہوں نے چاہا تو کابل میں میٹرولوجی لیب قائم کی جائے گی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں معیشت سے اچھی خبریں آرہی ہیں، خارجہ محاذ سے اچھی خبریں آرہی ہیں، اس میں اپوزیشن ٹوٹ رہی ہے یہ عجیب بات ہے کہ پاکستان کے لیے اچھی خبریں اپوزیشن کیلئے بری خبریں بن کر ابھر رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف اپوزیشن لیڈر کے عہدے کے علاوہ تمام کمیٹیوں سے استعفیٰ دے چکے ہیں، وہ کبھی بھی اپوزیشن لیڈر، بحران کے لیڈر نہیں تھے، جوں جوں بحران آتا ہے وہ ملک سے باہر چلے جاتے ہیں اور مریم نواز نے اسی موقع سے فائدہ اٹھا کر شہباز شریف کی قیادت پر شب خون مارا۔

فواد چوہدری نے کہا کہ مریم نواز نے شہباز شریف سے مسلم لیگ (ن) کی قیادت لے لی ہے، جو بیانیہ ابھی چل رہا ہے وہ شہباز شریف کا نہیں بلکہ مریم نواز کا چل رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف پاکستان مسلم لیگ (ن) میں فضل الٰہی یا رفیق تارڑ بن گئے ہیں، ان کی صدارت کی وہی حالت ہے، انہیں پارٹی میں کوئی پوچھتا بھی نہیں ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اسمبلی میں شہباز شریف نے کھڑے ہوکر میثاق معیشت کی بات کی، خواجہ آصف ان کے ساتھ بیٹھے تھے انہوں نے ڈیسک بجائے، اگلے دن مریم نواز نے میثاق معیشت کو مسترد کردیا اور خواجہ آصف پلٹ گئے تو انہوں نے کہا کہ میں مریم نواز کے موقف کی تائید کرتا ہوں۔

وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کا اپنی پارٹی پر کوئی کنٹرول نہیں، وہ بحران میں کھڑے نہیں ہوتے اس لیے مریم نواز آگے آگئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز کتنی ذہین سیاست دان ہیں، جو لوگ رات کو پارٹی سے گئے ہیں، اصل بات جو اب آنے والی ہے جب ایم این اے اور سینیٹرز پارٹی چھوڑ کر جائیں گے کیونکہ انہیں مریم نواز کی سیاسی اہلیت کا پتہ ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ مریم نواز وہ جہاندیدہ خاتون ہے جنہوں نے اپنے والد کو اقتدار سے نکلوایا، پھر سزا دلوائی، جیل میں ڈلوایا اور اب انہیں سکون آیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ لوگ جو مریم نواز کی بات سن کر چلتے ہیں وہ آج کل کہاں ہیں، دانیال عزیز، طلال چوہدری، جس جس نے مریم نواز کی بات سن کر سیاست کی ہے اس نے اپنا بیڑا غرق کیا، لوگوں کو ان کی سیاست پر اعتماد نہیں ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ جو لوگ حلقے کی سیاست کرتے ہیں وہ زمینی حقائق کو دیکھ کر سیاست کرتے ہیں، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اندر قیادت اور نااہل خاندانوں کی لڑائی ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ بلاول بھٹو، شہباز شریف اور دیگر ‘سلیکٹڈ سلیکٹڈ’ کرتے رہے اور ہم نے بجٹ پاس کروالیا، بلاول کے خلاف متفقہ قرار داد بھی منظور کرلی۔

انہوں نے کہا کہ کہ کل گوجر خان میں چند لوگوں کا اجتماع تھا اور بلاول وہاں خطاب کرنے چلے گئے، اس سے اندازہ لگاسکتے ہیں کہ اپوزیشن کتنی غیر سنجیدہ ہے، یہ بکھر رہے ہیں اور ایسا ہماری وجہ سے نہیں ہے، ن لیگ میں جو گروپنگ ہورہی ہے وہ ان کی اپنی قیادت کی وجہ سے ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اپوزیشن کے 12 ایم پی ایز نے ملاقات کی ہے، ان کی ناموں کی فہرست گردش کررہی ہے، ایم این ایز کے نام بھی سامنے آجائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ 6 ماہ بعد معاشی حالات بہتر ہوگی، خارجہ پالیسی کے نئے اہداف حاصل کرنے جارہے ہیں۔

فواد چوہدری نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میرا نہیں خیال اپوزیشن سینیٹ چیئرمین کی تبدیلی کا رسک لے گی کیونکہ انہیں اپنی قوت کا صحیح سے علم ہے تو وہ یہ معاملہ نہیں اٹھائے گی، یہ باتیں کرنے کی حد تک ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.