محکمہ صحت جہلم نے ہیلتھ ورکرکو بی ایچ یو اور ہیلتھ سپروائزر کو ٹی ایچ کیوز میں پابند کر کے احتجاج سے روک دیا

0

پڑی درویزہ: خبر دار! کوئی لیڈی ہیلتھ ورکریا ہیلتھ سپروائزر احتجاجی دھرنے میں شامل نہ ہونے پائے ۔ ہم باجی رخسانہ انور کے پیش کردہ مطالبات کی مکمل حمایت کرتی ہیں ، موقع ملا تو لازمی دھرنے میں شامل ہو ں گی۔لیڈی ہیلتھ ورکر اور لیڈی ہیلتھ سپروائزر کا مشترکہ بیان۔ محکمہ صحت ضلع جہلم نے LHWsکو بی ایچ یو اور LHSکو ٹی ایچ کیوز میں پابند کرلیا ۔سرکاری ملازم کو کسی ضرورت کے وقت پابند کیا جاسکتا ہے، دھرنے کے متعلق کوئی جواب نہیں دوں گا۔ ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر تحصیل سوہاوہ ڈاکٹر عمیر خالد کا بیان۔

تفصیلات کے مطابق نیشنل پروگرام برائے خاندانی منصوبہ بندی و بنیادی صحت کی ملازمین گزشتہ سوموار سے صوبائی دارلحکومت لاہور میں اپنے مسائل کے حل کے لیے ایک احتجاجی دھرنا دے رہی ہیں ۔ محکمہ صحت ضلع جہلم کی انتظامیہ نے انوکھے انداز میں فیلڈ میں خدمات سرانجام دینے والی لیڈی ہیلتھ ورکرز کومتعلقہ بنیادی مراکز صحت میں چھ دن کے لیے اور لیڈی ہیلتھ سپروائزر کو ڈینگی یا پولیو تربیت کے بہانے تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میں پابند کر لیا ہے تا کہ ملازمین اپنے مسائل کے حل کے لیے منعقدہ دھرنے میں شامل نہ ہو سکیں ۔ اس صورت حال کے متعلق نام نہ ظاہر کرتے ہوئے تحصیل سوہاوہ سے ایل ایچ ڈبلیو اور ایل ایچ ایس کی کثیر تعداد نے ایسوسی ایشن کی رہنما باجی رخسانہ انور کے مطلوبہ ایجنڈے کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔

ملازمین کا یہاں تک کہنا تھا کہ جب بھی موقع ملا وہ احتجاجی دھرنے میں لازمی شامل ہوں گی ۔سرکاری قواعد کے مطابق عمومی طور پر ان خواتین ملازمین کو ہسپتال میں پابند نہیں کیا جاسکتا ۔ اس وقت ہسپتالوں کی انتظامیہ لیڈی ہیلتھ ورکرز سے سادہ کاغذ پر حاضری لگا کر رسمی کاروائی کر رہی ہے جو کہ خلاف ضابطہ سرگرمی محسوس ہوتی ہے ۔ اطلاعات کے مطابق راولپنڈی ڈویژن کے دیگر اضلاع چکوال ، راولپنڈی اور اٹک سے لیڈی ہیلتھ ورکرز اور لیڈی ہیلتھ سپروائزر کی بڑی تعدا د لاہور دھرنے میں شامل ہو رہی ہے ۔محکمہ صحت ضلع جہلم یہ ہتھکنڈا استعمال کر رہا ہے۔

اس سلسلے میں ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر تحصیل سوہاوہ ڈاکٹر عمیر خالد سے جب پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ لیڈی ہیلتھ ورکر یا سپروائزر ہوں سب لوگ محکمہ صحت کے ملازمین ہیں ، آج کل ڈینگی کے حوالے سے تربیت ہو رہی ہے آئندہ موسم بھی آرہا ہے تو سرکاری ملازم کوکسی وقت بھی پابند کیا جا سکتا ہے یہ کوئی حیران کن بات نہیں ہے جب بھی ضرورت پڑے تو ایسا کیا جا سکتا ہے ۔

جب ان سے لاہور میں منعقدہ احتجاجی دھرنے کے حوالے سے سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ اس کا جواب نہیں دے سکتے یہ سوال ضلعی محکمہ صحت کی انتظامیہ سے کیا جا سکتا ہے ۔ تاہم ڈاکٹر عمیر خالد کا کہنا تھا کہ عمومی طور پر لیڈی ہیلتھ ورکر کی ڈیوٹی فیلڈ ڈیوٹی ہی ہوتی ہے بنیادی مرکز صحت میں ان ڈیوٹی عام طور پر نہیں ہوتی اسی طرح سپروائزر کا کام نگرانی کرنا ہوتا ہے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.