جہلم

رمضان المبارک کا دوسرا عشرہ مہنگائی کا سونامی غریب، سفید پوش طبقے کو نگلنے لگا

جہلم: رمضان المبارک کا دوسرا عشرہ مہنگائی کا سونامی غریب ،سفید پوش طبقے کو نگلنے لگا۔ ضروریات زندگی کی اشیاء کی قیمتوں کا نیچے آنے سے انکار، تاجروں کی لوٹ مار پر انتظامیہ کی خاموشی سوالیہ نشان بن گئی۔

تفصیلات کے مطابق ضلع جہلم کی چاروں تحصیلوں میں مہنگائی کے سونامی نے غریب ، سفید پوش طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو نگلنا شروع کر رکھا ہے ، جبکہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس گرانفروشوں کے خلاف کارروائیاں کرنے کی بجائے ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر سب اچھا ہے کی رپورٹس بھجوانے میں مصروف ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ رمضان بازار میں انتہائی ناقص و غیر معیاری اشیاء کی قیمتوں میں معمولی کمی کرکے شہریوں کی آنکھوں میں دھول جھونکی جارہی ہے جبکہ حفظان صحت کے اصولوں کے عین مطابق اشیاء ضروریہ رمضان بازاروں میں کہیں نظر نہیں آتی۔

صارفین کا کہنا ہے کہ 1 کلو چینی کے کے لئے کئی کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑتا ہے حکومت پنجاب نے مادہ جانوروں کے ذبحہ کرنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے جبکہ قصابوں نے انتظامیہ کی سرپرستی میں رمضان بازاروں سمیت اندرون شہر واقع قصابوں کی دکانوں پر بھی مادہ جانوروں کو ذبحہ کرکے من مانے نرخوں پر فروخت کرنا شروع کر رکھاہے ، مرغی کا گوشت رمضان المبارک سے ایک ہفتہ قبل 400 روپے ساڑھے 7 سو گرام فروخت ہو نا شروع ہوا جو آج 4 سو25 روپے میں ساڑھے 7 سو گرام فروخت کیا جا رہاہے۔

شہر ی ، سماجی ، رفاعی ، فلاحی ، تنظیموں کے عمائدین نے وزیرا علیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب، کمشنر راولپنڈی سے مطالبہ کیاہے کہ ضلع جہلم میں نافذ جنگل کے قانون کے خاتمے کے لئے ضلعی افسران کو متحرک کیا جائے تاکہ گرانفروشوں کو کنٹرول اور انتظامیہ کو چوکس کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button