ذہنی مریض اور دہشت گرد

تحریر: تنویر کھٹانہ

0

بائیس مئی دوہزار سترہ کی شب میں حسب معمول رات نو بجے کا خبرنامہ جیو نیوز پر دیکھ رہا تھا قریبا دس بجے کی ہیڈ لائنز دیکھ کر ٹی وی بند کیا تو سکائی نیوز کی بریکنگ نیوز کا نوٹیفکیشن آیا، نوٹیفکیشن کے مطابق مانچسٹر کے ایم ای این ایرینا میں دھماکہ ہوا ہے۔ میں نے جلدی سے نیوز ٹکر لکھے اور انٹرنیشنل ڈیسک کو بھجوا دئیے۔

ابھی میں مزید معلومات تلاش کر ہی رہا تھا کہ لندن میں جیو کے بیورو چیف مرتضی علی شاہ کا فون آیا کہ میں جلد ازجلد مانچسٹر پہنچو، میں نے گاڑی نکالی اور مانچسٹر سٹی سنٹر کے باہر گاڑی کھڑی کر کے ساری سنٹر کی جانب دوڑ لگا دی۔ پرنٹ ورکس کے علاقے میں پہنچے تو مین اسٹریم میڈیا کے ساتھ وہاں پہنچنے والا میں پہلا دیسی صحافی تھا، بی بی سی کے صحافی سے رسمی علیک الیک تھی اس سے تفصیلات پوچھیں تو اس نے بتایا کہ پچیس لوگوں کی ہلاکت اور سو کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ میں نے ایز لائیو بنا کر انٹرنیشنل ڈیسک کو بھجوا دیا۔

تھوڑی ہی دیر میں پولیس نے اس تمام علاقے کو کارڈن آف کر دیا اور پریس والوں کو ایک مخصوص جگہ سے کور کرنے کا کہا، ہم وکٹوریا سٹیشن کی دوسری جانب کھڑے تھے اور ایمبولینس، پولیس اور دیگر سیکورٹی اداروں کی گاڑیاں آ جا رہی تھیں۔ ایرینا چونکہ وکٹوریا سے متصل ہے تو پولیس نے سرچ آپریشن شروع کردیا۔

تھوڑی دیر میں خبریں آنا شروع ہو گئیں کہ حملہ خودکش تھا اور اس میں ملوث ایک مسلمان تھا۔ مانچسٹر میں مقیم پاکستانی اور مسلم کمیونٹی نے اس کی پرزور مذمت کی اپنے گھروں اور مساجد کے دروازے زخمیوں اور دھماکے کے باعث کھو جانے والے لوگوں کے لیے کھولے لیکن رات تین بجے خبر آئی کہ اولڈہم میں موجود ولا سٹریٹ والی مسجد کو جلانے کی کوشش کی گئی ہے۔

دوسرے ہی روز مانچسٹر میں مسجد نصرت کو جلا دیا گیا ،حالانکہ اکثریت اس واقعہ کی ناصرف مذمت کر رہے تھے بلکہ انھوں نے عملی طور پر لوگوں کی مدد کی جس میں ٹیکسی ڈرائیوروں نے مفت لوگوں کو گھر چھوڑا، ڈاکٹرز نے اوور ٹائم کیا اور مساجد نے لوگوں کی رہائش کے ساتھ کھانے کا اہتمام بھی کیا۔

مانچسٹر کی مساجد کے علماء نے متفقہ طور پر سلمان عابدی کا جنازہ پڑھانے سے انکار کیا لیکن پھر بھی نہ تو اسے ذہنی مریض کہا گیا اور نہ ہی اس کے ساتھ کسی بھی ہمدردی کا اظہار کیا گیا۔ مسلماں کمیونٹی نے اس دہشت گرد حملے کی پرزور مذمت کی اور کمیونٹی میں موجود ایسے عناصر کے خلاف باقاعدہ مہم کا آغاذ بھی کیا۔

دوسری جانب فینز بری مسجد کے باہر جب ایک سفید فام نے تراویح پڑھ کر آنے والے مسلمانوں پر گاڑی چڑھا دی تو اسے ذہنی مریض قرار دیا گیا۔ سینکڑوں کی تعداد میں موجود مسلمانوں نے جب اس سفید فام کو مارنا چاہا تو مسجد کے امام نے اسے بچا لیا۔ میڈیا میں دہشت گرد کاروائی کا واویلا مچا لیکن جونہی معلوم ہوا کہ دہشتگرد سفید فام ہے تو اسے ذہنی مریض قرار دیتے ہوئے میڈیا خاموش ہو گیا۔

‎نیوزی لینڈ میں پیش آنے والا واقعہ اس بات کی روشن دلیل ہے کہ یورپ امریکہ اور دیگر دنیا میں دائیں بازو کی نسل پرست جماعتیں دہشت گردی کی کاروائیوں میں نہ صرف ملوث ہے بلکہ درپردہ اس پر کام بھی کر رہی ہیں۔ کرائسٹ چرچ میں انچاس لوگوں کی شہادت کے ساتھ ہی پوری دنیا سے اس واقعہ کی مذمت تو آئی لیکن بڑے بڑے مغربی اخباروں نے دہشت گرد کو دہشت گرد نہ لکھا بلکہ ڈیلی میل نے تو شہ سرخی لگائی کہ “سنہری بالوں والا خوبصورت لڑکا” جس کے ساتھ نہ جانے کیا ہوا کہ وہ ذہنی مریض بن گیا شاید اس کے والد کے کینسر کے مرض نے اسے شدید ذہنی ڈپریشن کا شکار بنایا کہ اس نے یہ کاروائی کی۔

آسٹریلیا کہ ایک سینیٹر نے تو اسے امیگریشن پالیسی کی ناکامی بتاتے ہوئے تمام ملبہ ہی مسلمانوں پر ڈال دیا کہ کیونکہ مسلمان اکثریت سے اس ملک میں آ رہے ہیں تو مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز واقعات کا بڑھ جانا ایک فطری عمل ہے۔ لیکن یہ ذہنی مریض نہیں تھا بلکہ دہشتگرد تھا جو مسلمانوں سے شدید نفرت کرتا تھا اور اس کی نفرت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے یہ بربریت اور سفاکی کی ویڈیو کو براہ راست نشر کیا۔

اس کی بندوق پر نسل پرست لیڈران اور ان لوگوں کے نام لکھے تھے جو مسلمانوں کے خلاف پر تشدد واقعات میں ملوث رہے۔ لیکن پھر بھی اسے دہشتگرد قرار نہ دیا جانا منافقت کی انتہا ہے۔ جمعہ کی رات کو جب اسے عدالت پیش کیا گیا تو دوران سماعت اس شخص نے وائٹ سپریمیسی کا نشان بنا کر یہ واضح کر دیا کہ یہ کام مکمل ہوش و حواس میں کیا گیا ہے اور اس کے پیچھے ذہنی مرض نہیں بلکہ نفرت ہے۔

‎مغربی میڈیا کی جانب سے ہمدردی بھری شہ سرخیوں کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی کئی لوگوں نے اس انسانیت سوز واقعہ کی کھل کر حمایت کی، لیکن نہ تو پولیس اور نہ ہی کسی اور ادارے کی جانب سے ان نفرت انگیز پوسٹس پر ابھی تک کوئی کاروائی کی گئی ہے۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت کی اس مہم میں نسل پرست جماعتوں کے ساتھ ساتھ میڈیا کا بہت بڑا کردار ہے جب بھی کسی دہشتگرد کاروائی میں کوئی مسلمان ملوث ہو تو اسے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے لیکن جب بھی کوئی سفید فام ملوث ہو تو اسے ذہنی بیمار کہہ کر معاملہ دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

نیوزی لینڈ کے واقعے کے بعد لندن میں جمعہ کے نماز کے وقت ایک مسجد کے باہر تین لوگوں نے ایک مسلمان پر ہتھوڑے سے حملہ کیا تھا لیکن میڈیا میں اسے کوئی خاص کوریج نہ مل سکی کیونکہ حملہ آور سفید فام نسل پرست تھے۔ دہشت گرد مسلمان ہو یا کسی اور مذہب سے تعلق رکھنے والا، نسل پرست ہو یا شدت پسند ان تمام کا مقصد کمیونٹی کے مابین نفرت اور تفرقہ پیدا کرنا ہوتا ہے لیکن انسانیت پسند اور ذی شعور لوگ کبھی بھی ایسے پروپیگنڈے کا حصہ نہیں بنتے۔

نیوزی لینڈ کے واقعے کے بعد جہاں بہت سے لوگوں نے اس کی حمایت کی تو وہیں کئی لوگ مساجد کے باہر پہرہ دینے کے لیے پہنچے۔ مانچسٹر میں مسجد کے باہر ایک شخص نے پلے کارڈ اٹھا رکھا تھا کہ آپ میرے دوست ہیں آپ عبادت کیجیے میں آپ کی حفاظت کروں گا۔

‎ نیوزی لینڈ کے شہیدوں اور زخمیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے برطانیہ بھر میں تعزیتی اور دعائیہ پروگرام ترتیب دئیے گئے۔ دہشت گردی کی کوئی ایسی تعریف کرنا کہ جو ہر لحاظ سے مکمل اور ہر موقع پر سو فیصد اتفاق رائے سے لاگو کی جا سکے، اگر ناممکن نہیں تو کم از کم انتہائی مشکل ضرور ہے۔ اگر ہر قسم کے پس منظر اور اس معاشرے کے حالات کو یکسر نظرانداز کر دیا جائے تو پھر اس لفظ کی لغوی تشریح یوں ہوسکتی ہے کہ “خوف اور ہراس پیدا کرکے اپنے مقاصد کے حصول کی خاطر ایسا نپا تلا طریقہ کار یا حکمت عملی اختیار کرنا جس سے قصوروار اور بے قصور کی تمیز کے بغیر، (عام شہریوں سمیت) ہر ممکنہ ہدف کو ملوث کرتے ہوئے، وسیع پیمانے پر دہشت و تکلیف اور رعب و اضطراب (جسمانی نہ سہی نفسیاتی) پھیلایا جائے۔“

‎تین بنیادی نظریوں کی مدد سے ہم اس کی زیادہ بامعنی تعریف کرسکتے ہیں-
‎1. دہشت پسند ‘پاگل’ نہیں ہیں اور نہ ہی مجبور اور مظلوم ہیں۔ جو لوگ بدلہ کو عذر بنا کر دہشت گرد کاروائی کرتے ہیں ان کا ہدف کچھ اور ہوتا ہے لیکن وہ عوامی حمایت کے لیے اسے عذر کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

‎2. دہشت گردوں کا مقصد توجہ حاصل کرنا ہوتا ہے تنظیمیں عموماً ایسے واقعات کی ذمہ داری بھی قبول کر لیتی ہیں جن سے ان کا تعلق نہیں ہوتا تاکہ انھیں شہرت مل سکے اور ان کی دھاک بیٹھ سکے۔

‎کوئی بھی مذہب دہشت گردی کی نہ تعلیم دیتا ہے اور نہ ہی کسی بھی ایسی کاروائی کی حمایت کرتا ہے بلکہ تمام مذاہب ہی محبت کا درس دیتے ہیں۔ ایسے میں اگر انفرادی طور پر مذہب یا نسل کا نام استعمال کرتے ہوئے کوئی ایسی کاروائی کرے تو وہ بلاشبہ ایک دہشتگرد ہے تو اس دہشتگردی کو نسل اور مذہب سے بالا رکھتے ہوئے دہشتگردی ہی کہیں نا کہ ذہنی مریض۔۔۔۔۔

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.