پنجاب حکومت بلدیاتی ایکٹ 2019 کو نفاذ اور عمل درآمد پر تاحال ناکام

0

جہلم: پنجاب حکومت بلدیاتی ایکٹ 2019 کو نفاذ اور عمل درآمد پر تاحال ناکام، بلدیاتی ایکٹ 2019 کے مطابق پنجاب حکومت 6 ماہ میں نیبر ہوڈ کونسلز اور ویلج پنچائیت کونسل کے الیکشن کرانے کی پابند ہے، تاہم پنجاب حکومت اور الیکشن کمیشن بلدیاتی ایکٹ کے مطابق کوئی شیڈول جاری نہ کرسکی جبکہ تبدیلی سرکار محض کمیٹیاں تشکیل دینے پر غور کررہی ہے۔

بلدیاتی اداروں میں تعینات کیے گئے ایڈمنسٹریٹرز بلدیاتی ایکٹ 2013 میں دیئے گئے اختیارات ہی استعمال کر رہے ہیں، 4 مئی کو پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔

گزٹ نوٹیفکیشن کے اجراء پر بلدیاتی حکومتیں تحلیل کر کے ایڈمنسٹریٹرز تعینات کر دئیے گئے، جبکہ صوبائی دارالحکومت کے 9 ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں کمشنرز جبکہ 27 اضلاع میں ڈپٹی کمشنرز بطور ایڈمنسٹریٹرز وزیر اعلیٰ پنجاب کے صوابدیدی اختیارات کے تحت تعینات کیے گئے۔

بلدیاتی ایکٹ 2013 کے تحت بننے والی مقامی حکومتیں 2 سال 4 ماہ اور4 دن تک چل سکیں، ضلع جہلم کی 44 یونین کونسلوں سمیت میونسپل کمیٹیوں کے سینکڑوں بلدیاتی نمائندوں سمیت صوبہ بھر کے 58 ہزار بلدیاتی نمائندوں کو گھر بھیج دیا گیا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.