جہلم

محکمہ ہیلتھ کی سرپرستی، میڈیکل لیبارٹریوں میں ان ٹرینڈ عملہ مشکوک رپوٹیں جاری کرنے لگا

جہلم: محکمہ ہیلتھ کی سرپرستی میں ضلع جہلم کی تینوں تحصیلوں میں قائم میڈیکل لیبارٹریوں میں ان ٹرینڈ عملہ اور فرسودہ میڈیکل آلات کیوجہ سے مشکوک رپوٹیں جاری کی جانے لگیں ، سرعام صحت مند شخص کو خطرناک بیماریاں اور بیمار مریضوں کو تندرست قرار دینا معمول بن گیا۔

لیبارٹریوں میں ان ٹرینڈ عملہ جن میں اکثر کو میڈیکل کے حروف ابجد کا علم بھی نہیں ہے وہ سادہ لوح شہریوں کی صحت کے فیصلے کرنے پر بٹھا دئیے گئے ہیں اور ان کے پاس کسی محکمہ صحت اور ہیلتھ کیئرکمیشن کی شرائط کے مطابق کوئی اجازت نامہ بھی نہیں ، ضلع بھر میں قائم لیبارٹریوں کی اکثر رپورٹس غلط ہوتی ہیں شک کی بنیاد پریا ڈاکٹر کے مطمئن نہ ہونے پر کسی مستندمیڈیکل لیبارٹری سے دوبارہ ٹسٹ کروائے جائیں تو زمین آسمان کا فرق نکلتا ہے ، مبینہ طور پر محکمہ صحت کے بعض افسران نے ان نام نہاد لیبارٹری مالکان کو نامعلوم وجوہات کی بناء پر چھوٹ دے رکھی ہے جوکہ شہریوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔

شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف ، ڈپٹی کمشنر جہلم سے مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ ہیلتھ اور ہیلتھ کیئر کمیشن کی شرائط پورا کرنے والی لائسنس یافتہ لیبارٹریوں کوہی کام کرنے کی اجازت دی جائے جہاں تربیت یافتہ عملہ اور پتھالوجسٹ موجود ہوں اور باقی غیر رجسٹرڈ لیبارٹریوں کو سیل کیا جائے تاکہ شہری مستند لیبارٹریوں سے اپنے ٹیسٹ وغیرہ کروا سکیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button