جہلم

جہلم میں مرکز قومی بچت بزرگوں، خواتین کیلئے عذاب بن گیا، کھاتے دار سخت ذلیل وخوار

جہلم: مرکز قومی بچت بزرگوں ، خواتین کیلئے عذاب بن گیا ، سخت گرمی اور روزے کی حالت میں دھوپ میں لائنیں لگوا نے کا سلسلہ جاری، کھاتے داروں کو سخت ذلیل وخوار کیا جارہا ہے پاکستان پوسٹ کی اکاؤنٹ بھی قومی بچت میں منتقل کر کے ادارے کا بیڑہ غرق کیا جارہا ہے، آفس کا عملہ چھاؤں کا انتظام بھی نہیں کر رہا، برآمدے میں بیٹھنے پر بھی پابندی ہے جس نے کام کروانے ہیں باہر سڑک پر کھڑ ے رہیں، قومی بچت آفس کے باہر قطارو ں میں لگے سینکڑوں بزرگوں کی دہائی۔

تفصیلات کے مطابق مرکز قومی بچت سول لائن جہلم جہاں ہزاروں افراد نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی تو غلطی سے جمع کر وا دی ہے اب ان کو عملہ قومی بچت مکمل طور پر سزا دے رہا ہے قومی بچت آفس کے باہر صبح سات بجے کے قریب قطاریں لگنا شروع ہو جاتی ہیں اور عملہ اور افسر شاہی دس بجے کے قریب دفتر پہنچتے ہیں۔

تمام خواتین ، بزرگوں کو سخت گرمی میں بغیر سائے کے روڈ کے اوپر کھڑا کر دیا جاتا ہے اور افسران اندر ائیر کنڈیشنڈ ماحول میں انجوائے کرتے ہیں انتہائی سست روی سے کام کرتے ہیں اور کئی کئی گھنٹے ایک ہی کھاتے دار پر ضائع کر دیتے ہیں اگر کوئی شہری احتجاج کی جرات کرئے تو اس کو باہر نکال دیا جاتا ہے یا روزہ کا بہانہ بنا کر کام کو التواء کا شکار کر دیا جاتا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک تو ہم نے اربوں روپے سرکاری بچت سکیموں میں لگا دئیے ہیں اوپر سے سارا سارا دن دھوپ میں کھڑا کرکے خوار کیا جارہا ہے یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم سب یہاں خیرات زکوٰۃ لینے کیلئے آئے ہیں منیجر قومی بچت کی جانب سے کھاتے داروں کیلئے چھاوں کا یا بیٹھنے کا کوئی انتظام نہیں کیا جارہا۔

دوسری طرف نااہلی حکومتی منصوبہ سازوں نے پاکستان پوسٹ کے کھاتے بھی قومی بچت میں منتقل کرکے مرکز قومی بچت پر مزید بوجھ ڈال دیا ہے اور اب پاکستان پوسٹ کے کھاتے دار بھی قومی بچت دفتر کے دھکے کھانے پر مجبور ہو چکے ہیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button