کالم و مضامین

جلالپورشریف تا کندووال نہر تبدیلی کا آغاز

قارئین؛ جہلم میں بالخصوص تحصیل پنڈدادنخان میں 1985سے 2013کے انتخابات تک مسلم لیگ(ن)کے امیدوار منتخب ہوتے آئے،اللہ کے بعد عوام نے انہیں بڑی عزت دی۔
اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اس علاقے سے منتخب ہونے والے نوابزادہ راجہ اقبال مہدی ایک شریف انسان تھے اور عمومی طور پر وہ انتقامی سیاست پر یقین نہیں رکھتے تھے اور نہ ہی ٹھیکیداروں سے کمیشن لینے کے متعلق انکے بارے کوئی بات سامنے آئی (انکے ذاتی اعمال اپنی جگہ) لیکن عملی طور پر اس حلقے کے بنیادی مسائل کی طرف کوئی توجہ نہ دی گئی۔
تحصیل پنڈدادنخان سے منتخب ہونے والے ممبران صوبائی اسمبلی کی بھی عوامی مسائل میں دلچسپی سب کے سامنے عیاں ہے۔ پانی کا مسئلہ تحصیل پنڈدادنخان کے باسیوں کے لیے درد سر بنا ہوا تھا،کوہستان نمک اور سوڈا ایش فیکٹری سے خارج ہونے والے کیمیکل سے زمینیں بنجر پڑی ہوئی تھیں،کاشتکار پانی کی عدم دستیابی کے باعث انتہائی مایوسی کا شکار تھے۔
اس علاقے کے لیے 121سال قبل انگریز حکومت نے جلالپورشریف تا کندووال نہر بنانے کا تحفہ دیا لیکن قیام پاکستان کے بعد کسی حکومت نے اس جانب توجہ نہ دی۔
مشرف دور میں پنڈدادنخان جلسے کے دوران سابق وفاقی وزیر الحاج چوہدری شہباز حسین اور سابق ضلع ناظم چوہدری فرخ الطاف نے پرویز مشرف اور اسوقت کے وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی سے مذکورہ نہر منظور کروائی، کاغذی کارروائی بھی شروع ہوئی لیکن حکومت ٹھپ ہوتے ہی یہ منصوبہ بھی ٹھپ ہو گیا۔
الیکشن2018کی مہم کے دوران ایک دفعہ پھر امیدواروں نے عوام کو سبز باغ دکھانے کی کوشش کی لیکن عوام شاید ان کی مکاریوں اور عیاریوں کو سمجھ گئی۔ الیکشن سے قبل پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین (موجودہ وزیراعظم پاکستان) عمران خان نے فواد چوہدری کی دعوت پراس پسماندہ ترین علاقے کا دورہ کیا۔
فواد چوہدری نے انہیں اس حلقہ کے مسائل جلالپورشریف تا کندووال نہر،وکٹوریہ پل،نرومی دھن،ٹیکنیکل کالج،للّٰہ انٹرچینج تا جہلم ڈبل روڈ،تفریح پارکس،گراؤنڈزاور دیگر منصوبوں کی اہمیت،افادیت اور اس علاقہ کی محرومیوں سے آگاہ کیا۔ عمران خان نے فواد چوہدری سے وعدہ کیا کہ اللہ نے موقع دیا تو اس حلقے کی محرومیوں کو دور کیا جائے گا۔
پی ٹی آئی کی حکومت بنی تو چند ماہ بعد اس دھرتی سے منتخب ہونے والانمائندہ فواد چوہدری بھی جہلم کی آواز بنا۔ غازیوں اور شہیدوں کے ذکر پر فواد چوہدری اسمبلی اجلاس میں آبدیدہ ہو گئے،انہوں نے ہر سطح پر جہلم کے حقوق اور مسائل کی بات کی،انہوں نے وزیراعظم اور وزیر اعلی کی موجودگی میں للکار کے کہا ہم سالانہ اربوں روپے ٹیکس دیتے ہیں اس میں سے جہلم کا حق دیا جائے۔
فواد چوہدری نے منتخب ہونے کے چند ماہ بعد للِہ تا جہلم ڈبل روڈ،جلالپورشریف تا کندووال نہر،پنڈدادنخان اور جہلم میں اسٹیڈیم اور گراؤنڈز کی خستہ حالی کے متعلق وفاقی اور صوبائی حکومت کو آگاہ کیا اور پھر آغاز ہوا اس حلقے میں تبدیلی کے سفر کا۔
پہلے کھیوڑہ اور پنڈدادنخان میں اسٹیڈیم کی تعمیر شروع ہوئی،کھیوڑہ میں پانی سپلائی کا مسئلہ بہتر ہوا،گلیوں اور سڑکوں کی تعمیر شروع ہوئی،فواد چوہدری، چوہدری فرخ الطاف اور چوہدری ظفر اقبال کی کوششوں سے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال جہلم میں بے سہارا افراد کے لیے پناہ گاہ قائم ہوئی،ضلع بھی کے بنیادی مراکز صحت میں ڈاکٹرز کی کمی کو پورا کیا گیا۔
جلالپورشریف تا کندووال نہر 121سالہ پرانا منصوبہ اور تحصیل پنڈدادنخان کے باسیوں کا دیرینہ مطالبہ تھا جو وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری کی خصوصی دلچسپی اور کوششوں سے شرمندہ تعبیر ہوا،اس عوامی منصوبے میں کچھ ناقبت اندیشوں نے بغض فواد چوہدری میں اس تاریخی منصوبے کو بھی متنازعہ بنانے کی کوشش کی اور انتشار بازی کو ہوا دینے کی کوشش کی جو عوام نے ناکام بنا دی۔
بالآخر اس تاریخی منصوبے کا افتتاح ہوا وزیر اعظم عمران خان نے وزیر اعظم بننے کے بعد جہلم کا دوسرا اور پنڈدادنخان کا پہلا دورہ کیا،وزیر اعظم نے جلالپورشریف تا کندووال نہر کا سنگ بنیاد رکھا تووزیر اعلی عثمان بزدار نے بھی فواد چوہدری کے مطالبے پر اربوں روپے کی منصوبوں کا اعلان کیا۔
جلالپورشریف تا کندووال نہر کا منصوبہ 44ارب کی لاگت سے تین مرحلوں میں مکمل ہو گا،نہرکے پانی سیایک لاکھ ستر ہزار سے زائد ایکڑ بنجر رقبہ سیراب ہوگا،بنجر زمینیں آباد اورلوگ خوشحال ہوں گے،جلاپورشریف نہر سے علاقہ تھل کی تین بالائی یونین کونسلوں کو لفٹ کے زریعے پانی دیا جائے گا جبکہ پینے کے پانی کی قلت کو مدنظر رکھتے ہوئے ابتدائی طور پر مختلف دیہاتوں میں 40واٹر فلٹریشن پلانٹ بھی لگائے جائیں گے۔
یوں یہ تاریخی منصوبہ نہ صرف بنجر زمینوں کو آباد،سیکڑوں لوگوں کو خوشحال اور قحط زدہ علاقے میں پانی کی قلت کو پورا کرے گا بلکہ تحصیل پنڈدادنخان میں تعمیروترقی اور خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہو گا۔
 
 
 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button