جہلماہم خبریں

حکومت انتخابی اصلاحات کیلئے سنجیدہ ہے، بلاول نے اپنا امام تبدیل کرلیا۔ فواد چوہدری

وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے نجی کمپنیوں کی جانب سے کورونا ویکسین کی درآمد کے معاملے پر کہا ہے کہ میں نے وزارت صحت کو تجویز دی تھی کہ درآمدی ویکسین کی قیمت کا تعین نہ کیا جائے اور درآمد کنندہ کو قیمت کی حد بندی سے آزاد رکھا جائے۔

میڈیا کو بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ اس طرح مارکیٹ میں مسابقت کا ماحول پیدا ہوتا لیکن متعلقہ حکام نے قیمت مقرر کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ‘یہ کہنا کہ قیمت کم ہے یا زیادہ، لیکن اگر آپ کو کم قیمت میں ویکسین ملتی ہے تو درآمد کرلیں’۔

فواد چوہدری نے کہا کہ حکومت پاکستان تمام شہریوں کو کورونا ویکسین کی خوارک دینے کی پابند ہے اور اب تک 7 لاکھ افراد وائرس سے بچاؤ کے لیے خوارک حاصل کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مرحلہ وار ویکسین لگائی جائیں گی اور اس میں وقت لگے گا۔

وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے کہا کہ پرائیوٹ ویکسین کا فائدہ ہے کہ جو لوگ قطار میں لگ کر انتظار نہیں کرنا چاہتے اور ویکسین کی قیمت برداشت کرسکتے ہیں وہ لگوالیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح حکومت پر دباؤ بھی کم ہوگا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے حوالے سے کہا کہ جب ایک گاڑی کے اتنے سارے ڈرائیور ہوں گے تو ایکسیڈنٹ ہونا ہے۔

علاوہ ازیں انہوں نے اپوزیشن کو مخاطب کرکے کہا کہ حکومت انتخابی اصلاحات کے لیے سنجیدہ ہے اور وزیر اعظم عمران خان نے اسپیکر قومی اسمبلی سے اس معاملے میں اپوزیشن رہنماؤں کو ساتھ لے کر چلنے کا کہا لیکن اب اپوزیشن خود پیچھے ہٹ رہی ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ انتخابی اصلاحات سے متعلق تین روز قبل ہونے والے اجلاس میں صرف تین لوگ شریک تھے جبکہ اپوزیشن نے شرکت نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن یہ طرز عمل اپنائے گی تو قوم کو نقصان پہنچے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت مسلم لیگ (ن) نابالغ قسم کی سیاست کررہی ہے اور اپنی کم علمی کی وجہ سے پارلیمنٹ کو ناکام کرنا چاہتے ہیں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کا جھگڑا چل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک پارٹی پنجاب میں 8 اور دوسری پارٹی سندھ میں 8 اضلاع تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں کوئی قابل ذکر دراخواست نہیں آئی لیکن اگر عدالت عظمیٰ نے نوٹس کیا تو میں جسٹس قاضی فائز عسییٰ اور ان کی اہلیہ کو جواب دوں گا۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ سرینا عیسیٰ نے وفاقی وزیر فواد چوہدری کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی ہوئی ہے۔

سرینا عیسیٰ کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ فواد چوہدری نے جسٹس قاضی فائز عیسٰی سے متعلق توہین آمیز ٹوئٹ کی۔

وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے تسلیم کیا کہ پولیس اور پٹواری نظام میں بہتری کے لیے اقدامات تاحال نہیں اٹھائے گئے لیکن اس کی اصل ذمہ داری صوبائی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام وفاق کو نہیں کرنا بلکہ صوبوں کو کرنا ہے۔

فواد چوہدری نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین کے حوالے سے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے اپنا امام تبدیل کرلیا پہلے جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن تھے اور اب جماعت اسلامی کے سراج الحق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امام کی تبدیلی کا معاملہ بلاول جانیں اور مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز جانیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button